Hathi Nama

Hathi Nama

ہاتھی نامہ

جنگل میں رہنے والے موجود جانوروں میں ہاتھی کو اللہ تعالیٰ نے بے حد طاقتور بنایا اور بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے۔ ہاتھی کو ناک کے بجائے سونڈعطاکی، جس کے ذریعے ہاتھی بہت وزنی چیزیں اٹھاسکتا ہے۔

تمثیلہ زاہد:
جنگل میں رہنے والے موجود جانوروں میں ہاتھی کو اللہ تعالیٰ نے بے حد طاقتور بنایا اور بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے۔ ہاتھی کو ناک کے بجائے سونڈعطاکی، جس کے ذریعے ہاتھی بہت وزنی چیزیں اٹھاسکتا ہے۔
ہاتھی اپنی سونڈ کے ذریعے سے درختوں کے بڑے بڑے تنے اٹھالیتا ہے۔
ہاتھی میں سونگھنے کی حس بہت تیزہوتی ہے۔ ہاتی دوسرجانوروں کی بومیلوں دور سے سونگھ لیتا ہے۔ ہاتھی کو اگر دسمن سے خطرہ محسوس ہو تو وہ اپنی سونڈ کو بالکل سیدھا کرکے اپنے ریوڑکے دوسرے ساتھیوں کو بھی مطلع کرتا ہے ۔
ہاتھی کے کان بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں، جو مکھی، مچھر کو بھگانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ ہاتھی کی آنکھیں چھوٹی ، مگر نظر انتہائی تیز ہوتی ہے۔ ایک ہاتھی کی زندگی عام طور پر تقریباََ 70 سال تک ہوتی ہے۔

(جاری ہے)


مغلیہ دور میں ہاتھیوں کی بڑی اہمیت تھی۔

ہندوستان کے حکمراں ہاتھیوں پر سفر کرنا اپنی شان سمجھتے تھے۔ ان کی جنگوں میں بھی اگلے دستے کے طور پرہاتھیوں سے کام لیاجاتا، یعنی ان پر سوار ہوکردشمن کامقابلہ کیا جاتا تھا۔ ہاتھی اپنے بھاری بھرکم جسم کے ذریعے سے دشمنوں کو پیروں تلے رونڈڈالتے ۔
ہاتھی کی جلد بھی موٹی ہوتی ہے۔ اس پر عام ہتھیار اثر نہیں کرتا، اس لیے ہاتھی زخمی کم ہوتا ہے۔
ہاتھی زیادہ تعداد میں افریقا میں پائے جاتے ہیں۔ کینیا کو ہاتھیوں کی سرزمین کہاجاتا ہے۔ برما کے لوگوں میں ہاتھی پالنے کارواج عام ہے۔
ہاتھیوں کوگھریلو کاموں کی خاص تربیت دی جاتی ہے۔ ہاتھی سدھانا بے حدآسان ہے، کیوں کہ یہ ایک سمجھ دارجانور ہے۔ برما میں ہاتھی کے ذریعے سے باربرادری کاکام لیاجاتا ہے۔
ہاتیھی زیادہ ترسیاہ رنگ کے ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں بھورے رنگ کے ہاتھی بھی پائے جاتے ہیں، لیکن ایسے ہاتھیوں کی تعداداب بہت کم ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا بے دردی سے شکار کیاجارہاہے۔
ہاتھی کے دانت بے حدقیمتی ہوتے ہیں، جن سے مختلف زیورات، چاقو اور چھریوں کے دستے بنائے جاتے ہیں۔ ہاتھی کی ہڈیوں سے بھی قیمتی اور دیدہ زیب چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔
ہاتھی گوشت خور جانور نہیں ہے۔
یہ گھاس پھونس اور درختوں کے پتے کھاکرگزارہ کرلیتا ہے، البتہ گنا ہاتھی کی مرغوب غذا ہے۔
انسان کے تھوڑے سے لالچ کی وجہ سے ہاتھیوں کی کئی نسلیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہیں۔ چڑیا گھروں میں خوش ہوکردیکھے جانے والے اس جانور کی حفاظت بے حد ضروری ہے۔

Your Thoughts and Comments