Jo Boyen Ge Wohi Katian Gay

جوبوئیں گے وہی کاٹیں گے

اگر بنیاد مضبوط اور درست ہوگی تو اس پر تعمیر ہونے والی دیوار بھی پختہ ثابت ہو سکے گی

منگل اکتوبر

jo boyen ge wohi katian gay

عیشۃ الراضیہ
ہمارے نو نہال ہمارا مستقبل ہیں ان کی فطرت میں جوبیچ بویا جائے گا وہی ہمیں کاٹنا پڑے گا۔ اگر انہیں ایک صالح اور معاشرے کا عمدہ فرد بنانا ہے تو اس امر لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ بچپن ہی سے ان کی طبیعت و شخصیت اعلیٰ اخلاقی اقدار میں ڈھالیں۔

آج کل مارننگ شوز میں آئے روز نت نئے عجوبے دیکھنے کو تو ملتے ہیں مگر کچھ دنوں پہلے ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنے مارننگ شو میں ایک گول مٹول پٹھان بچہ جس نے چہرے پر چشمہ بھی بٹھا رکھا تھا کو بلایا گیا ۔ پہلی نظر میں جو کوئی بھی اس بچے کو دیکھے گا تو اس کے لئے پیار کے جذبات ہی ابھریں گے ۔
کیونکہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں ۔ انہیں اچھے برے کا نہیں پتہ ہوتا یہ فرض صرف ماں باپ کا ہے کہ بچے کی کس طرح اچھی پرورش و تربیت کی جائے ۔

(جاری ہے)

اچھی پرورش پر تو سبھی توجہ دیتے ہیں جس میں لباس، خوراک ، تعلیم کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ آیا ان امور میں کسی قسم کی کوئی کسرباقی نہ رہ جائے مگر کھلائو سونے کا نوالا اور دیکھو شیر کی نظر کے مصداق اب والدین بچوں پر شیر کی سی نظر کم ہی رکھتے دکھائی دیتے ہیں ۔

بات ہو رہی تھی مارننگ شو میں آنے والے بچے کی جس کا نام احمد تھا۔ اس پروگرام میں اسے خوب غصہ دلایا گیا وہ اس طرح کے اس بچے کو اپنی چیزیں شیئر کرنے کی بلکل عادت نہیں ہے اور اگر کوئی اس کی چیز اس سے دور لے جائے تو یہ بچہ بڑے چھوٹے کی تمیز بھی بھول جاتا ہے اور پھر جو منہ میں آتا ہے وہ کہتا چلا جاتا ہے۔

اس پروگرام میں اس بچے کے علاوہ اور بھی معصوم نونہال آئے ہوئے تھے جو کہ اپنی معصومیت اور بھول پن کی وجہ سے احمد سے جدا دکھائی دے رہے تھے یہ بچہ جس قسم کا غصہ کر رہا تھا اسے ہمارے مہذب معاشرے میں بدتمیزی کے زمرے میں لیا جاتا ہے اور اگر کوئی بچہ ایسا کرے تو اس کی اصلاح بھی کی جاتی ہے کہ کہیں یہ منفی امور اس بچے کی شخصیت کا خاصہ نہ بن جائیں مگر اس پروگرام میں ہم نے دیکھا کہ اس کی اصلاح کرنے کے بجائے اس کی باتوں پر سب ناظرین و حاضرین ہنس رہے تھے بچوں کی شرارتوں پر ہنسی آ جاتی ہے۔

لیکن اگر اس کی اصلاح نہ کی جائے تو وہ ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں ۔ دوسرا اگر نونہالوں کی شرارتوں اور بدتمیزی پر بڑے ہنسیں تو بچے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی اچھا کام کر رہا ہے اور اس سے اسے مزیدشے ملتی ہے جو اس کے بڑے ہونے پر خطرناک نتائج کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ۔
یہ بچے بڑے ہو کر جب والدین کی عزت نہیں کرتے تو یہی والدین جو اس کے بچپن میں اس کے منفی اخلاق پر ہنسا کرتے تھے اپنی بری قسمت کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہماری اولاد ہمارا خیال نہیں رکھتی ۔ جبکہ انہیں سوچنے کی ضرورت کہ جب پہلی مرتبہ ان کے بچے نے بدتمیزی کی تھی تب ہی اس کی اصلاح کر دی جاتی تو آج حالات یہ نہ ہوتے ۔
مجھے یاد ہے کہ بچپن میں ہمیں اس بات کی خاص تلقین کی جاتی تھی کہ اپنی چیزیں دوسروں کے ساتھ شیئر کریں ۔ اگر کوئی کھانے کی چیز ہوتی تھی وہ آس پاس بیٹھے سبھی لوگوں میں تقسیم کرکے کھانے کی تلقین ہوا کر تی تھی۔ اسی طرح کھیلتے ہوئے اپنے کھلونے دوسروں بچوں سے شیئر کرنے کی تربیت دی جاتی تھی ۔
بڑوں سے بدتمیزی کا تو تصورہی نہیں تھا ۔ اگر کوئی بچہ اس طرح کرتا تھا تو ماں باپ سب سے پہلے اس کی اصلاح کرتے تھے ۔ سونے کا نوالہ کھلانے کے ساتھ ساتھ بچوں پر شیر کی نگاہ بھی رکھی جاتی تھی جس کا بہترین ثمر ان کے بڑے ہونے پر سامنے آتا تھا ۔
مگر آج کل کے نونہال اپنی بے جا ضد کی وجہ سے والدین کے استاد اور والدین ان کے آگے بے بس دکھائی دیتے ہیں ۔ صرف احمد ہی وہ واحد بچہ نہیں ہے جس کی غیر شائستہ گفتگو سے بڑے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ آج کل تقریبا ہر گھر میں ایسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے ایسے بچوں کی وڈیوز بنا کر واٹس ایپ کر کہ بچے کو سراہا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس میں گمان پیدا ہوتا ہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہا ہے اور یہ اس کی ایک پکی عادت بن جاتی ہے۔
یہ ایک انتہائی قابل فکر بات ہے کیونکہ انہی نونہالوں نے آگے جا کر معاشرے کا اہم فرد بننا ہے اگر ان کی طبیعت و شخصیت میں منفی امور کا دخل نمایاں رہے گا تو مستقبل قریب میں یہ معاشرے کو ایسی ڈگر پر لے جائیں گے کہ جہاں صرف اعلیٰ اخلاقی اقدار کی تباہی دکھائی دے گی۔


لہٰذا اپنے مستقبل کے معماروں کی ایسی بہترین اخلاقی تربیت کریں جو آگے جا کر ملک و قوم کو اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنادیں یہی وہ واحد حل ہے جو معاشرے کو تمام برائیوں سے پاک کردے گا کیونکہ اگر بنیاد مضبوط اور درست ہوگی تو اس پر تعمیر ہونے والی دیوار بھی پختہ ثابت ہو سکے گی۔

Your Thoughts and Comments