Kal Ki Fikr

Kal Ki Fikr

کل کی فکر

کہتے ہیں کہ ایک ہرے بھرے جنگل میں ایک گائے رہتی تھی ۔ علی الصبح وہ گھاس چرنے کے لیے نکل جاتی اور سارا دن گھاس چرتی۔۔۔

کہتے ہیں کہ ایک ہرے بھرے جنگل میں ایک گائے رہتی تھی ۔ علی الصبح وہ گھاس چرنے کے لیے نکل جاتی اور سارا دن گھاس چرتی رہتی ․․․ سورج ڈوبنے تک اس کا پیٹ خوب بھر جاتا ہے اور وہ خود کو بہت توانا محسوس کرتی لیکن گھر واپس لوٹتے ہی اس غم میں گھلنے لگتی کہ معلوم نہیں کل اسے گھاس ملے نہ ملے پوری رات اس فکر میں گھلتی رہتی اور رات کو صحیح طریقے سے سوبھی نہ پاتی ، بے چینی سے اس کی طبیعت بھی خراب ہوجاتی ۔

اب اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ ہر روز جنگل اس کے لیے ہرا بھرا ہو جاتا اور گھاس اونچی ہوجاتی تاکہ وہ اچھی طرح سے اپنا پیٹ بھرلے اور خود کو توانا محسوس کرے ۔ ہر روز کے اس تجربے سے بھی اسے اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے پر یقین نہ آتا اور وہ رات بھر کل کی فکر میں مبتلارہتی ۔

(جاری ہے)


مولانارومی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ کی اس حکایت کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر روز رب کائنات کی فراخی اور رازق ہونے کا تجربہ کرتا ہے لیکن اس کا دل ایمان نہیں پکڑتا ۔ اس کے پاس جتنا بھی مال ہواس میں قناعت پیدا نہیں ہوتی ۔ وہ اس گائے کی طرح آنے والے کل کے اندیشوں میں مبتلا رہتا ہے اور بے سکونی اور ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے ۔
اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نظام کو سمجھتے ہوئے صبروشکر کے ساتھ زندگی بسر کرے اور ضرورت مندوں کو بھی دے تو اس کے مال میں ہر روزاضافہ ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہے اس لیے فکرفردا کی بجائے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کے رزق کو اپنے تک محدود رکھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی مخلوق تک پھیلانا چاہیے پھر دیکھئے کیسے سکون ملتا ہے؟

Your Thoughts and Comments