Sheikh Saadi Ki Baatain

Sheikh Saadi Ki Baatain

شیخ سعدی کی باتیں

ایک حکیم سے کسی نے پوچھا کہ سخاوت اور بہادری میں کون سی چیز بہتر ہے۔ اس حکیم نے جواب دیا۔

عالِم اور وزیر:
مصر میں دو امیر زادے رہتے تھے۔ ایک نے علم سیکھا دوسرے نے مال جمع کیا۔ پہلا بڑا عالم بن گیا دوسرا مصر کا وزیر بن گیا اور عالم کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگا۔ اس نے کہا کہ میں نے حکومت حاصل کر لی اور تو حقیر فقرہی رہا۔
عالم نے جواب دیا کہ اے بھائی! اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر مجھے ادا کرنا چاہیے کہ اس نے مجھے پیغمبروں کا ورثہ یعنی علم عطا کیا۔

(جاری ہے)

تجھے فرعون وہامان کی میراث یعنی مال ملا، یعنی مصر کی حکومت۔
سخاوت اور بہادری
ایک حکیم سے کسی نے پوچھا کہ سخاوت اور بہادری میں کون سی چیز بہتر ہے۔

اس حکیم نے جواب دیا۔” جس میں سخاوت ہے اس کو بہادر کی ضرورت نہیں ہے۔“
بہرام گور کی قبر پر لکھا ہوا ہے کہ سخاوت کا ہاتھ طاقت ور بازو سے بہتر ہے۔ حاتم طائی نہیں رہا لیکن اس کا نام ہمیشہ نیکی میں مشہور رہے گا۔ مال کی زکواة نکالتا رہ ، کیوں کہ مالی انگور کے بے کار شاخیں کاٹ پھینکتا ہے تو انگور زیادہ آتا ہے۔

Your Thoughts and Comments