طلباء ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، وفاقی حکومت نے تعلیم کے فروغ اور معیار بہتر بنانے کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں،

وفاقی وزیر برائے پیشہ وارانہ تربیت و تعلیم انجینئر بلیغ الرحمن کا کانووکیشن سے خطاب

منگل اپریل 19:48

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2018ء) وفاقی وزیر برائے پیشہ وارانہ تربیت و تعلیم انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ طلباء ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، یہ پاکستان کے مستقبل کے معمار ہیں، وفاقی حکومت نے تعلیم کے فروغ اور معیار بہتر بنانے کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں، آج کا پاکستان 2013ء کے پاکستان کے مقابلہ میں زیادہ بہتر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پاک۔

چائنہ فرینڈ شپ سینٹر اسلام آباد میں روٹس یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 2013ء میں جب ہم اقتدار میں آئے تو اس وقت پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا، جن میں دہشت گردی، انتہاء پسندی، توانائی کے بحران سمیت دیگر مسائل تھے جن پر ہماری حکومت نے قابو پایا اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے نہ صرف دہشت گردی اور انتہاء پسندی جیسے مسائل کے حل پر توجہ دی بلکہ تعلیم کے شعبہ پر بھی خاص توجہ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ کے فنڈ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا اور اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ موٹرویز اور شاہراہوں کے کئی منصوبے زیر تکمیل ہیں جو کہ پاکستان کے بہتر مستقبل کے ضامن ہوں گے۔

انہوں نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کا سرمایہ ہیں، آپ قوم کے مستقبل ہیں اور آپ نے ہی اس کو آگے لے کر جانا ہے۔ وفاقی وزیر نے تعلیم کے فروغ میں روٹس کے کردار کو سراہا اور فارغ التحصیل طلباء کو کامیابی پر مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے طلباء سے کہا کہ وہ خود کو نئی ٹیکنالوجی سے لیس کریں۔ تقریب میں وزیر مملکت ممتاز احمد تارڑ، عمر حمید خان، مختلف ممالک کے سفارتکاروں سمیت ماہرین تعلیم، والدین اور طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں طلباء کو میڈلز اور اسناد بھی دی گئیں۔ قبل ازیں روٹس کے سی ای او ولید مشتاق نے استقبالیہ خطاب میں ادارہ کی کارکردگی پر روشنی ڈالی اور شرکاء کا خیرمقدم کیا۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments