Asif Khan's Tomb

مقبرہ آصف خان

آصف خان \آصف جاہ کا اصل نام مرز ا ابو الحسن تھااس کے والد کا نام مرز اغیاث بیگ تھا جو اعتماد الدولہ کے لقب سے مشہور ہواآصف خان ملکہ نور جہاں کا بھائی اور ملکہ ممتاز محل کا باپ تھا۔

Asif Khan's Tomb

آصف خان آصف جاہ کا اصل نام مرز ا ابو الحسن تھااس کے والد کا نام مرز اغیاث بیگ تھا جو اعتماد الدولہ کے لقب سے مشہور ہواآصف خان ملکہ نور جہاں کا بھائی اور ملکہ ممتاز محل کا باپ تھا۔ شہنشاہ شاہ جہاں کا دست راست ‘سپہ سالاراور وزیر تھا۔ جہانگیر نے اسے مختلف مراثب ومناصب سے ترقی دے کر 1625ء میں لاہور کا گورنر بنایا اورسات ہزاری ذات اورسات ہزاری سپا ہ کا منصب اور آصف خان کا خطاب دیا جبکہ بعض مورخین کے مطابق اسے آصف جاہ کا خطاب دیاگیا۔ آصف خان کی سن پیدائش کے بارے میں تاریخ خاموش ہے ۔ جبکہ آصف خان کی وفات کے بارے میں بھی مورخین کی رائے منتقسم ہے تاریخ لاہور میں کہنیالال نے آصف خان کی وفات کا سن 1634جبکہ محکمہ آثارقدیمہ کی جانب سے آصف خان کے مقبرے پر نصب کتبے پر تاریخ وفات1641درج ہے ‘آصف خان کا مقبرہ جہانگیر کے مقبرے کے مغرب کی جانب واقع مسجد کے عقب میں ایک وسیع باغ کے وسط میں تعمیر کیا گیا ہے ‘آصف خان کا مقبرہ باغ کو چار حصوں میں تقسیم کرتا ہے ہر حصے میں تالاب اور فوارے تعمیر کیے گئے تھے جن میں سے صرف تالابوں کے نشانات باقی ہیں محکمہ آثارقدیمہ کی عد م توجہ اور نااہلی سے باغ اجڑ چکا ہے اور جھاڑیوں اور جنگلی گھاس کی کثرت کی وجہ سے سیاح اس حصے میں آنے سے کتراتے ہیں جبکہ محکمہ آثار قدیمہ کے ملازمین کی رشوت ستانی اور نااہلی کے باعث آصف خان کا مقبرہ نشہ کے عادی افراد اور ’’جوڑوں‘‘کے لیے ایک پرکشش پناہ گاہ ہے ‘مقبرہ آصف خان کا مرکزی دروازاہ مقبرہ جہانگیر سے چند گز کے فاصلے پر ہے مگر محکمہ آثار قدیمہ نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے بند کرکے مقبرے کے اندر سے مقبرہ آصف خان کی طرف جانے والا ایک تنگ راستہ سیاحوں کی آمدورفت کے لیے رکھا ہے ‘آصف خان کا مقبرہ شہنشاہ شاہ جہاں نے 4سال کی مدت میں تین لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کروایا تھا‘ یہ آصف خان وہی تھا جس کی ہمت وتدبیر سے شاہ جہاں کو ہندوستان کے تخت پر بیٹھنا نصیب ہوا۔

(جاری ہے)

اس نے جہانگیر کی وفات کے بعد اپنی بہن ملکہ نور جہاں کو فوری طور پر نظر بند کردیا اور شہزادہ د اور بخش کو ہندوستان کا برائے نام بادشاہ بنا کر تخت پر بٹھا دیا تاکہ سلطنت کے دوسرے دعویدار نہ پیدا ہوں ۔کیونکہ اس وقت شہزاد خرم یعنی شاہ جہاں دکن میں تھا۔ اگر آصف جاہ ایسا نہ کرتا تو شاہ جہاں کو ہندوستان کا تخت حاصل کرنے میں بہت زیادہ دشواریاں پیش آتیں۔ شاہ جہاں اس بات کو اچھی طرح جانتا تھا اس لیے وہ ہمیشہ آصف خان کا احسان مند رہا اور ہمیشہ بزرگوں کی طرح آصف خان کی عزت وتکریم کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو لاہور کے علاوہ ملتان کا گورنر بھی بنایا۔ اورسات ہزاری منصب سے بڑھا کرآٹھ ہزاری منصب عطا کیا اور کچھ عرصہ کے بعد نو ہزاری منصب اور نو ہزارسوار سپاہ کی سالاری عطا کی۔ اس وقت یہ جلیل القدر منصب وعروج و اقتدار کوئی دوسرے شہزاے یا تیموری امیر حاصل نہ کر سکا تھا۔ اس کے علاوہ آصف خان کو پچاس لاکھ روپیہ سالانہ کی جاگیر بھی دی۔ آصف خان اس عہد شاہی کا امیر الامراء تھا۔ اس کی تنخواہ آج کل کے حساب سے ڈیڑھ دوکروڑ روپیہ سالانہ تھی ۔ اس کی دولت کا کچھ شمار نہ تھا۔ اس کے تمام عزیز واقارب اور بیٹے حکومت کے اعلیٰ عہدوں اورمنصبوں پر فائز تھے ۔ وہ بادشا ہ سے اکثر کہا کرتا تھا کہ روپیہ جمع کرنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ بچوں اور اہل وعیال کی عمر آسائش وآرام سے گذرے اور چونکہ میرے سب عزیز مراحم خسروانہ سے خوشحال ہیں اس لیے میری تمام دولت اور جاگیر حضور ہی کی ہے اس نے ایک وصیت نامے کے ذریعہ اپنا سب مال و زر بادشاہ پر نثار کر دیا۔ آصف خان اپنے باپ اعتماد الدولہ کی طرح ٹھوس علمی قابلیت کا ما لک تھا۔ لیکن فن تعمیرات میں اسے خاصی دلچسپی تھی ۔اس نے بیس لاکھ روپے کی لاگت سے ایک عالی شان حویلی لاہور کے میدان نخاس میں تیار کر ائی جو آج ’’حویلی آصف جاہ ‘‘کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہے ۔ یہ میدان نخاس دہلی دروازہ کے باہر تھاجہاںآج سرائے سلطان ،لوہا بازار ،لنڈا بزار اور شہید گنج واقع ہیں۔ اس حویلی کے اندر مسجد یں ،حمام ، دفاتر ، تالاب ، حوض ،فوارے ، زنانہ ومردانہ محل تھے ۔ آصف جاہ کے انتقال کے بعد یہ حویلی دار شکوہ کے حصے میں آئی اور وہ اس میں رہنے لگا۔ اس وجہ سے اس علاقے کو چوک دار اشکوہ کہتے ہیں‘ آصف خان کی زندہ یاد گاروں میں کشمیر کا نشاط باغ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے آج بھی مشہور ہے ۔ یہ باغ شالا مار باغ کشمیر کے جنوب کی طرف کچھ فاصلے پر جھیل ڈل کے کنارے واقع ہے ۔ اس کے بارہ چبوترے ہیں جو برج آسمانی کی طرز بنے ہوئے ہیں جھیل ڈل کے مشرقی ساحل سے بتدریج پہاڑ کی بلندی کت چلے گئے ہیں۔ آصف خان کی وفات 1641ء میں ہوئی اور بادشاہ کو اس سے بہت صدمہ پہنچا۔ اس نے آصف خان کے بڑے بیٹے شائستہ خان کو جو بہار کا گورنر تھا، ماتمی خلعت اور فرمان تسلی بھیجا اور حکم دیا کہ آصف خان کو جہانگیر کے پہلو میں دفن کیا جائے ۔ مقبرہ کے چاروں طرف ایک بلند چار دیواری کے اندر ایک باغ بنایا جائے اور اس کی تربت پر ایک ایسا عالی شان گنبد تعمیر کیا جائے جو اس کے نام کی طرح بلند ہو۔ چنانچہ چار سال کے عرصہ میں بیس لاکھ کی لاگت سے مقبرہ آصف خان تعمیر ہوا۔ آصف خان کا مقبرہ لاہور کی ایک عظم تاریخی عمارت ہے لیکن انقلاب زمانہ سے اس کی صورت اتنی مسخ ہو چکی ہے کہ چند واقف حال لوگوں کے سوا کوئی یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کی ترو تازگی کا پہلے کیا عالم تھا اور اب کیا رہ گیا ہے ۔ بنانے والوں نے اسے کس محبت اور دلسوزی سے بنایا اور سنوارا تھا لیکن بگاڑنے والوں نے اسے کیسی بے دردی سے تاراج وپامال کر دیا ۔ آصف جاہ کا مقبرہ فرش سے گنبد تک سفید سنگ مرمر کا تھا۔ مقبرہ کے اندر کا فرش، باہرآٹھ پہلو چبوترہ کا فرش، قبر کا تعویذ، حوضوں کے کنارے یہاں تک کے علیشان دروازے کی ڈیوڑھی کا فرش بھی سنگ مرمر کا تھا۔ مقبرہ کے آٹھ دروازے اور آٹھ دہلیزیں اور باہر مرغولوں پر ہر جگہ سنگ سرخ اور اس کے دو رویہ کا نسی کا کام تھا۔ مقبرہ میں سونے چاندی کی قندیلیں اور بیش قیمت فانونس تھے ۔ قرآن پڑھنے والوں کے لئے ایک حافظ خانہ ، ایک مطبخ خانہ اور چند دیگر مکانا ت تھے جن میں محافظ رہا کرتے تھے ۔ جب پنجاب کی حکومت سکھوں کے قبضے میں آئی تو انہوں نے پتھر کے لالچ میں یہ تمام عمارتیں گراد یں اور سونے چاندی کا سامان لوٹ لیا۔ قبر کے تعویذ کو چھوڑ کر جس پر باری تعالیٰ کے ننانوے نام اور قرآنی آیات کندہ تھیں سنگ مرمر کا ایک ٹکڑا بھی اس پر نہ رہنے دیا۔ عمار ت کو بالکل کھنڈر بنایا اور اس کار سارا غرور خاک میں ملا دیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے حضور باغ لاہور کی بارہ دری اور دربار صاحب امر تسر کی تعمیر کے وقت اس علیشان عمار ت کو نقصان پہنچایا۔ مقبرہ کے چاروں طرف ایک آٹھ پہلو نہر مقبرہ کے گرد چکر لگاتی تھی ۔ 1880ء میں گورنمنٹ پنجاب نے رائے بہادر کنہیا لال ایگزیکٹو انجینئر کی زیر نگرانی اس مقبرہ کی کچھ مرمت کروائی جس کے نتیجہ میں یہ رعب وار اور پر شکوہ عمارت گرنے سے بچ گئی اور اب تک حوادث زمانہ کا مقابلہ کر رہی ہے ۔ مغلوں کے دور میں تعمیر شدہ یہ عمارت بادشاہ اور رعایا دونوں کی نظروں میں اس شخص کی قدر و منزلت کی ایک علامت ہے جو آصف خان کی عظمت کی گواہی دیتی ہے ۔

لاہور کے مزید سیاحتی مقامات :

Your Thoughts and Comments