Jahangir's Tomb

مقبرہ جہانگیر

جہانگیر 1569ء میں فتح پور سیکری کے مقام پر پیدا ہوا‘ اکبر نے اس کا نام شیخ سلیم چشتی کے نام پر محمد سلطان سلیم رکھا ۔ اس کی تعلیم وتربیت کے لئے نہایت اعلیٰ انتظام کیا اور عبد الرحیم خانخانان کو اس کا اتالیق مقررکیا۔

Jahangir's Tomb
جہانگیر 1569ء میں فتح پور سیکری کے مقام پر پیدا ہوا‘ اکبر نے اس کا نام شیخ سلیم چشتی کے نام پر محمد سلطان سلیم رکھا ۔ اس کی تعلیم وتربیت کے لئے نہایت اعلیٰ انتظام کیا اور عبد الرحیم خانخانان کو اس کا اتالیق مقررکیا۔ اپنی قدرتی ذہانت کے باعث جہانگیر نے جلد ہی عربی ،فارسی ، ترکی اور سنسکرت پر عبور حاصل کر لیا اور علم تاریخ ، جغرافیہ ، علم نباتات ، موسیقی اور مصوری میں دستریں حاصل کر لی ۔

شعر وادب اور مصوری سے اسے خاص طور پر دلچسپی تھی 15سال کی عمر میں 1575ء میں راجہ بھگوان داس والی امبر کی بیٹی مان بائی عرف شاہ بیگم سے اس کی پہلی شادی ہوئی اور ۱۵۸۷ ء میں مان بائی کے بطن سے شہزاد خسرو پیدا ہوا۔ جہانگیر کی بیویوں کی تعداد کے بارے میں مورخین کا خیال ہے کہ منکوحہ بیویوں کی تعداد بیس سے کم نہ تھی ۔

(جاری ہے)

شہزاد سلیم اوائل عمر ہی سے عیش وعشرت اور مے نوشی کا دالد ادہ تھا۔

اور یہ چیز اکبر کے لئے پریشانی کا باعث تھی ۔ 1591ء میں جب اکبر دکن کی مہم پر روانہ ہوا تو اس نے سلیم کو نائب السلطنت متعین کر دیا۔ لیکن سلیم نے الہ آباد پہنچ کر علم بغاوت بلند کر کے صوبہ بہار کے خزانہ پر قبضہ کر لیا۔ شاہ کا لقب اختیار کر کے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا ۔ اکبر اسیر گڑھ سے واپس آگرہ پہنچا اور دکن سے ابو الفضل کو بلوا بھیجا ۔

سلیم نے راستے ہی میں ابو الفضل کو ہلاک کر دیا جس کا اکبر کو بہت رنج ہوا۔ اکبر کے پاس اتنے وسیع ذرائع تھے کہ وہ بغاوت کو باآسانی فرو کر سکتا تھا۔ لیکن محبت پدری کے باعث اس نے کوئی شدید تادیبی کاروائی نہیں کی ۔ آخر کار سلیمہ بانو بیگم کی کوشش سے باپ بیٹے میں صلح ہوگئی اور سلیم نے اپنی دادی مریم مکانی کی معیت میں حاضر ہو کر معافی مانگ لی ۔

اکبر کی وفات کے بعد شہزادہ سلیم ۲۴ اکتوبر ۱۶۰۵ء کو آگرہ میں تخت نشین ہوا اور نور الدین محمد جہانگیر کا لقب اختیار کیا۔ تخت نشینی کی خوشی میں ہزار قیدیوں کو رہا کیا گیا اور اپنے نام کا سکہ جاری کیا۔ جہانگری نے اسلام کے تحفظ اور اکبر کی صلح کل حکمت عملی کی پالیسی کی پابندی کا اعلان کیا۔ تخت نشین ہوتے ہی جہانگیر نے چند اصلاحی احکام نافذ کیے۔

چوری اور ڈاکہ زنی کے انسداد کے لئے شاہراہوں پر مستقل سرائیں ،مساجد اور کنویں تعمیر کرائے ۔ شراب اور افیوں بنانا اور بیچنا ممنوع قرار دیا گیا۔ شفاخانے تعمیر کیے گئے کاشتکاروں کی بیدخلی کی ممانعت کی گئی اور بعض محاصل کی تنسیخ کا حکم جاری کیا۔ مال تجارت کی نقل وحمل پر عائد پابندی اٹھالی گئی ۔ جاگیرداروں کو سختی سے منع کیا گیا کہ وہ رعایا کی زمینوں پر قبضہ نہ کریں ۔

یہ بھی حکم دیا کہ وفات کے بعد کسی عہدیدار کی جائیداد ضبط نہ کی جائے بکہ مرحوم کے وارثوں کی دیدی جائے ۔ مجرموں کے ہاتھ ، پاؤں اور کان نہ کاٹے جائیں خاص ایام میں ذبیحہ کی ممانعت کی گئی ۔ اکبر کے زمانے کے تمام منصب داروں کے مناصب اور جاگیرداروں کی جاگیروں کی عام توثیق کا حکم جاری کیا گیا۔ جہانگیر کی زنجیر عدل نے بڑی شہرت حاصل کی ۔ اس زنجیر کے کھینچنے سے شاہی محل میں گھنٹیاں بجنی شروع ہوجاتی تھیں اور جہانگیر بہ نفس نفیس ہر فریادی کی داد رسی کرتا تھا۔

زنجیر عدل کے بارے میں جہانگیر خود رقم طراز ہے کہ یہ زنجیر خالص سونے کی تھی جو تیس گز لمبی اور ساٹھ طلائی گھنٹیوں سے مزین تھی ۔ اس کا وزن چار من تھا۔ شہزادہ خسرو جہانگیر کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ بڑا قابل ،بلند حوصلہ اور اپنے داد اکبر کا نور نظر تھا۔ درباریوں میں سے کچھ لوگون کا خیال تھا کہ شاید اکبر اپنی وفات کے بعد خسرو کو تخت پر بٹھانا چاہتا ہے ۔

ان افواہوں کے پیش نظر جہانگر نے شہزادہ خسرو کو آگرہ کے قلعے میں نظر بند کر دیا تھا۔ ۱۶۰۶ ء میں اپنے دادا اکبر کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بہانے سے خسرو ۳۵۰ سواروں کے ہمراہ تیزی سے دہلی کی طرف روانہ ہوگیا۔ رفتہ رفتہ اس کی فوج کی تعداد ۱۲۰۰۰ تک پہنچ گئی ۔ شہزاد ہ خسرو نے لاہور کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔ جہانگیر نے باغی شہزادے کے تعاقب میں فوج بھیجی اور خود بھی دوسرے دن اس کے پیچھے روانہ ہوا۔

دریائے چناب کے کنارے بھیر و وال کے میدان میں دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا۔ خسرو کو شکست ہوئی اور وہ گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے ساتھیوں کو سخت سزائیں دی گئیں اور خسرو کو بینائی سے محروم کر دیا گیا۔ خسرو کو شہزادہ خرم (شاہ جہاں) کے سپرد کر دیا گیا ۔ بالاخر ۱۶۲۲ ء میں اس کی وفات ہو گئی ۔ جہانگیر کے عہد کا اہم ترین واقعہ اس کی نور جہاں (مہر النساء ) سے شادی ہے ۔

مارچ ۱۶۱۱ ء میں جشن نور روز کے دوران مینا بازار کی سیر کرتے ہوئے جہانگیر نے اچانک نور جہاں کو دیکھا۔ اس کی خوبصورتی ، رعنائی اور حاضر جوابی سے اتنا متاثر ہوا کہ مئی ۱۶۱۱ء میں اسے شادی کر لی ۔ اس شادی کے بارے میں مورخین متضاد نظریات رکھتے ہیں ۔ کبوتر والا افسانہ بھی زبان زد عام ہے ‘ مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہزادہ سیلم مہر النساء کی محبت میں گرفتار تھا‘ لیکن مہر النساء کی شادی علی قلی خاں شیرا فگن سے کر دی گئی ۔

چنانچہ موقع پا کر شیرافگن کو ہلاک کر وا کر جہانگیر نے مہر النساء سے خود شادی کر لی‘لیکن بیشتر مورخین کی دیانتدانہ رائے ہے کہ جہانگیر نے مہرالنساء کو پہلے دیکھا تک نہ تھا۔ اور شیرا فگن کی ہلاکت سے جہانگیر کا کوئی تعلق نہ تھا‘ شادی کے وقت جہانگیر کی عمر ۴۲ سال اور نور جہاں کی عمر ۳۴ سال تھی ‘ نور جہاں تمام نسوانی خوبیوں کی حامل ہونے کے علاوہ اعلیٰ فہم وفراست اور معاملہ فہمی کی صفات بھی رکھتی تھی ‘ وہ تمام امور سلطنت کی نگرانی کرنے لگی اور رفتہ رفتہ جہانگیر امور سلطنت سے غافل ہوتا گیا‘ نور جہاں مملکت کی سیاہ و سفید کی مالک بن گئی نور جہاں اس طرح پندرہ سال تک اقتدار پر قابض رہی ہوس جاہ واقتدار کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا نور جہاں کا اقتدار اگرچہ عام لوگوں کے لئے مفید تھا لیکن انجام کار سلطنت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا۔

لاہور کے مزید سیاحتی مقامات :

Your Thoughts and Comments