کنزہ ہاشمی․․․نوجوان اور پرعزم اداکارہ

میکے کو دے دو سندیس ،تشنگی دل کی ،محبت تم سے نفرت ہے،صلہ اورجنت ،من چاہی ،ہونا تھا پیار،ملن،زندگی مجھے تیرا پتہ چاہئے ،ادھور املن،سنگسار اور متعدد کھیلوں کی شوخ وشنگ اداکارہ کا نام کنزہ ہاشمی ہے

ہفتہ اگست

kinza hashmi - Nojwan Or Purazam Adakara
 درخشاں فاروقی
میکے کو دے دو سندیس ،تشنگی دل کی ،محبت تم سے نفرت ہے،صلہ اورجنت ،من چاہی ،ہونا تھا پیار،ملن،زندگی مجھے تیرا پتہ چاہئے ،ادھور املن،سنگسار اور متعدد کھیلوں کی شوخ وشنگ اداکارہ کا نام کنزہ ہاشمی ہے ،جب کبھی مظلوم قسم کی لڑکی کا روپ دھارتی ہیں تو ہم نے خواتین کو ڈرامہ دیکھتے ہوئے روتے دیکھا ہے ۔ان سے گفتگو کے دوران احساس ہوا کہ یہ عمر سے بڑی باتیں ہی نہیں کرتیں،سماجی مسائل اور اخلاقی اقدار کا پاس ولحاظ بھی خوب رکھتی ہیں۔

چلئے ان سے خود مل کر دیکھتے ہیں اور ان کی باتوں کا حسن ،چھوٹی چھوٹی سی باتوں سے قارئین آپ بھی محفوظ ہوں گے۔
”کنزہ آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے اور کس شہر میں پیدا ہوئیں؟“
”7مارچ1997ء کی پیدائش ہے اور لاہور میں پیدا ہوئی۔

(جاری ہے)

اس لحاظ سے میرا اسٹار Piscesتو بنتا ہے اور میں نے اسٹار کی خوبیاں اور کمزوریاں سب اپنی شخصیت میں محسوس کی ہیں لیکن میرا اپنے خدا پر کامل یقین ہے ۔

کچھ بھی اس کی مرضی اور حکمت کے بغیر نہیں ہوتا۔“
”بھائی بہن ہیں؟کیا کرتے ہیں؟“
”کوئی بھائی بہن نہیں،اکلوتی ہوں۔“
”کیا پڑھ لکھ رہی ہیں؟“
”میڈیا ،اور بہت کچھ ابھی پڑھناہے بعد میں کبھی بتاؤں گی۔“
”سنا ہے آپ گلوکار ہ بننا چاہتی تھیں پھر یہ اداکاری کے میدان میں کیسے آگئیں؟“
”آئی تو گانا گانے ہی تھی․․․آواز تو بری نہیں مگر لے اور تال سے مار کھا گئی ظاہر ہے کہ فیملی میں تو یہ آرٹ ہے نہیں میں جتنی محنت کر سکتی تھی ،کی مگر پتا چلا کہ بہت زیادہ ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے ۔

مایوس ہو کر پلٹنے لگی تو ڈرامے کی آفر آگئی میرا خیال ہے قدرت نے ہمارے لئے جو شعبہ چنا ہوتا ہے ہم اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔ویسے مجھے جب کبھی موقع ملا میں گانے کے ٹیلنٹ کو اور نکھاروں گی اور گانا بھی گاؤں گی فی الحال تو ڈراموں سے ہی فرصت نہیں ۔میں خوش نصیب ہوں کہ میرے پہلے دونوں ڈرامے ناظرین اور چینلز پر بہت پسند کئے گئے۔ریٹنگ بھی اچھی رہی اور پروڈیوسر زڈائریکٹرز نے بھی تعریف کی ۔

اب میرے پاس دو سال تک کاکام تو موجود ہے مگر میں اخلاقی طور پر اسے رازرکھنے کی پابند ہوں ورنہ آپ کو بتا دیتی کہ کتنے مختلف قسم کے کردار مجھے مل چکے ہیں۔“
”کچن سے دوستی کیسی ہے؟“
”ابھی تو تھوڑی کچی سی ہے مگر میں بہت جلد Pickکر لیتی ہوں ۔مجھے اٹالیئن اور پاکستانی دونوں کھانے پکانے آتے ہیں دعویٰ نہیں کرتی مگر اچھی کک ہوں۔میکرونی سے بریانی تک آزما چکی ہوں اور میرے پکائے ہوئے کھانوں کی تعریف ہی ہوتی ہے آپ کا دستر خوان تو کبھی کبھار نظر سے گزرتا ہے اچھی ریسیپیز ہوتی ہیں بنانے کو جی چاہتا ہے۔

امی Tryکرتی رہتی ہیں۔“
”آج ہمیں انٹرویو دیتے ہوئے کیسا لگ رہا ہے؟“
”بہت اچھا اور Excitedبھی ہوں۔“
”گھر میں آپ کے دل کے نزدیک کون سی ہستی ہے؟“
”ماں سے بڑھ کر بچے کے لئے کون سی ہستی ہو سکتی ہے۔ابو بھی بہت پیار دلار کرتے ہیں اور امی کی ناراضگی بھی برداشت نہیں ہوتی۔کوشش کرتی ہوں کہ ان کے ساتھ ہر لمحے رابطے میں رہوں۔اچھا برا ہر واقعہ انہیں بتاتی ہوں ان سے مشورہ کرتی ہوں۔

امی ناراض ہوں تو میری نیند اڑ جاتی ہے اور کھانے پینے کو بھی جی نہیں چاہتا۔حالانکہ میں بھوک تو برداشت ہی نہیں کی سکتی مگر امی ناراض نہیں ہونی چاہئیں۔“
”Piscesبڑے صلح جو اور پیارے لوگ ہوتے ہیں کیا واقعی؟“
”پیاری ہوں یا نہیں یہ تو آپ بتائیے میں کسی سے بلاوجہ لڑتی جھگڑتی نہیں۔نہ ہی مغروری دکھاتی ہوں حالانکہ میں مقبول ہورہی ہوں اور ناظرین کی توجہ حاصل کر چکی ہوں مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔

اگر مجھے کسی کی کوئی بات بری بھی لگے تو پہلے تو خاموشی اختیار کر لیتی ہوں ۔سامنے والے کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ میں اسے نظر انداز کر رہی ہوں۔پھر بھی اگر کوئی بات کرتا رہے تو اگلے دن بھول بھی جاتی ہوں۔
دیکھئے برے سلوک سے انسان ٹوٹتا تو ہے ،دکھ ہوتا ہے مگر یہ سب وقتی باتیں ہیں۔میں دل میں کسی کے لئے بغض نہیں پالنا چاہتی۔دل کو گھر کی طرح صاف شفاف ہی رہنا چاہئے کدورتیں اور ناراضگیاں نفسیاتی مسئلوں کو جنم دیتی ہیں۔

ذہنی طور پر پریشان شخص جس کام میں ہاتھ ڈالے گا اسے ادھور اچھوڑے گا یا پھر لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اترے گا۔مجھے اپنے بارے میں بہت زیادہ خوش فہمی نہیں مگر اپنی ساکھ اور وقار کاخیال رکھتی ہوں۔“
”ڈراموں کی شوٹنگز کے لئے لاہور سے باہر بھی جانا پڑتا ہے۔اکیلی جا سکتی ہیں کراچی یا اسلام آباد یا ملک سے باہر کہیں؟“
”ملک سے باہر تو ملائیشیا جا چکی ہوں،کراچی میں بھی رہی ہوں ،لاہور ہی میں زیادہ تر شوٹنگز ہورہی ہیں کیونکہ یہاں ڈائریکٹرز کو اچھی لو کیشنز مل رہی ہیں۔

کبھی امی تو کبھی دوست یا ابو ساتھ ہوتے ہیں ۔بڑی تو اب ہو نا ہے ناں۔کراچی میں اکیلی بھی رہی ہوں اس لئے بھی کھانا پکانے کی پریکٹس ہو گئی ہے۔ویسے میں اکثر باہر ہی کھا آتی ہوں۔پروڈکشن ہاؤسز کو پتا ہے کہ اکیلی ہوں تو وہ سیٹ پر ہی گھر کا پکاہوا کھانا مہیا کر دیتے ہیں اور دیر سے لوٹوں تو آرڈر کر لیتی ہوں یا خود پکالیتی ہوں۔“
”اگر فلم کی آفر ہوتو کیسا کردار ادا کرنا پسند کریں گی اور فلم کریں گی بھی یا نہیں؟“
”آفر تو ہو چکی ہے․․․ذہن ابھی بنا نہیں ۔

اگر میرے تحفظات دور ہو گئے تو شاید امی ابو بھی اجازت دے دیں۔میں نے ابھی کچھ سوچا نہیں․․․ایک اچھی بات تو یہ ہے کہ ٹیلی ویژن انڈسٹری کے لوگ ہی فلم بنارہے ہیں اس لئے مسئلہ تو کوئی ہونا نہیں چاہئے۔کردار کا بھی ابھی ذہن میں کوئی آئیڈیا نہیں ہے۔“
”اگر آپ کو کوئی سر کاری عہدہ مل جائے تو کیا کریں گی؟“
”میں ایک ایسا اولڈ ہوم بناؤں گی جس میں بزرگ افراد کو سائبان ملے۔

ایسے بزرگ افرادجن کی اولادیں انہیں گھر سے بے دخل کر رہی ہیں یا جن کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا اور ہر شعبے سے کرپشن دور کرنے کی کوشش کروں گی۔“
”کون کون سی زبانیں بول لیتی ہیں یا سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی؟“
”پنجابی تو میری مادری زبان ہے بول بھی لیتی ہوں کچھ پڑھ بھی لیتی ہوں ۔انگریزی ذریعہ تعلیم رہی تو بولنا اور سمجھنا مشکل نہیں۔

اردو گھر میں بولی جاتی ہے اور پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔باقی علاقائی زبانیں سمجھ تو آجاتی ہیں روانی سے بول نہیں پاتی اگر کوئی کر دار ایسا ملا تو پریکٹس کرکے بول لوں گی۔“
”کاسمیٹکس کیسی پسند ہیں؟“
”کاجل،لپ اسٹک، فاؤنڈیشن اور سن اسکرین سب ہی کچھ اچھا لگتاہے۔“
”اپنی کمائی سے کیا چیزیں خریدیں یا خریدنے کی خواہش ہے؟“
”اپنے لئے لیپ ٹاپ خرید لیا ،موبائل فون ،کپڑے ،تھوڑی سی جیولری اور کھانا پینا سب ہی کچھ چلتا رہتا ہے۔

خواہش کوئی نہیں جو پوری نہ ہوئی ہو۔“
”شادی کے لئے آپ کا انتخاب کیسا ہو گا؟“
”بہت ہی قبل ازوقت پوچھا جانے والا سوال ہے لیکن لڑکا نفیس ہو،پڑھا لکھا ہو ،جاب اچھی ہو ،ادب لحاظ کرتا ہو اور بے جاتو قعات نہ رکھے۔باقی شریک سفر کے طور پر پڑھی لکھی لڑکیاں بھی کسی طرح نعمت سے کم نہیں ہوا کرتیں۔“بائیس برس کی اس چھوٹی سی نوجوان اداکارہ نے اچھی اچھی باتیں تو اور بھی کئی تھیں مگر اسے ڈائریکٹر کی کال آگئی اور یہ زیادہ اہم تھا کہ وہ اپنا شاٹ مکمل کرالے۔

Your Thoughts and Comments