میڈیا ہاؤس پر حملے کے دو مقدمات میں مدعی مقدمہ کی استدعا پر سماعت ملتوی کردی گئی

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2019ء)انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے پاکستان مخالف نعروں، دہشتگردی، میڈیا ہاس پر حملے اور میڈیا ہاؤس پر حملے کے دو مقدمات میں مدعی مقدمہ کی استدعا پر سماعت ملتوی کردی گئی۔ کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے روبرو پاکستان مخالف نعروں، دہشتگردی، میڈیا ہاس پر حملے اور میڈیا ہاس پر حملے سے متعلق ایم کیو ایم رہنماں کیخلاف اشتعال انگیز تقاریر کے دو مقدمات کی سماعت ہوئی۔

سربراہ تنظیم بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار، ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینئر عامر خان، کنور نوید جمیل، قمر منصور، شاہد پاشا گلفراز خٹک و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ مدعی مقدمہ عبد الغفار نے استدعا کی میری طبیعت ٹھیک نہیں لہذا سماعت ملتوی کردی جائے۔

(جاری ہے)

عدالت نے مدعی مقدمہ کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 4 جنوری تک ملتوی کردی۔

آئندہ سماعت پر فاروق ستار، عامر خان و دیگر کے وکیل مدعی مقدمہ کے بیان پر جرح جاری کرینگے۔ ملزمان کیخلاف تھانہ آرٹلری میں دو مقدمات سرکار کی مدعیت میں درج ہیں۔ مقدمے میں عدالت بانی ایم کیو ایم سمیت 8 ملزمان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ 22 اگست 2016 کو ایم کیو ایم کارکنوں کی ہنگامہ آرائی کے دوران ایک شخص جاں بحق اور کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مقدمے میں نامزد سینئر وکیل گلفراز خان خٹک ایڈوکیٹ نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ لاہور واقعے کی ہر باشعور شخص مزمت کرتا ہے۔ اس واقعے میں یکطرفہ طور پر ایک فریق کو مورود الزام نہیں ٹہرایا جاسکتا۔ لیکن یہ واقعہ کیوں رونما ہوا اس کا پتہ لگانا ضروری ہے۔ جب دونوں فریقین کے درمیان معاملات کشیدہ چل رہے تھے تو حکومت کہاں تھی،پہلے معاملات حکومت نے کیون حل نہیں کئے۔

واقعہ والے روز لگ رہا تھا انتظامیہ خود چاہتی ہے کوئی تصادم ہو۔ وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوچکی لگتا ہے اس طرح کے واقعات کراکر حکومت عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ گلفراز خان خٹک ایڈوکیٹ نے کہا کہ لاہور واقعے میں وکلا کو مورود الزام ٹھہرانا اور تشدد کرنے پر وکلا ملک بھر میں ہڑتال کر رہے ہیں۔ وکلا عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے۔

Your Thoughts and Comments