لڑکے کو کھانے کے لیے ملنے والی رقم میں موجود پینی کا سکہ دس لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ میں فروخت ہوگا

لڑکے کو کھانے کے لیے ملنے والی رقم  میں موجود  پینی کا سکہ  دس لاکھ ڈالر ..

1947 میں میسا چوسٹس کے  ہائی سکول میں پڑھنے والے  16 سالہ ڈون لوٹیس جونیئر کو کھانے  کی رقم میں 1943 کا نایاب لنکن پینی ملا۔یہ مقبول سکہ اُن 20 سکوں میں سے ایک ہے جسے حادثاتی طور پر تانبے سے بنایا گیا تھا۔امریکی حکومت ان سکوں کی موجودگی سے کئی سالوں تک انکار کرتی رہی تاہم  ڈون نے اس سکے کو اپنے پاس محفوظ رکھا۔یہ سکہ تقریباً  70 سال تک ستمبر میں ڈون  کی وفات تک ان کے پاس رہا۔

ایک نیلامی میں اس سکے کے 1 ملین سے 1.7 ملین ڈالر ملنے کی توقع ہے۔
ہیریٹیج آکشن کی سارہ ملر کا کہنا ہے کہ امریکی سکوں کی تاریخ میں یہ سب سے مقبول غلطی سمجھی جاتی ہے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا بیچ رہا ہے۔
1940  کی دہائی میں امریکا میں تانبے سے  صرف گولیوں کے خول ،ٹیلی فون کی تاریں اور جنگ میں استعمال ہونے والی چیزیں ہی بنائی جاتی تھیں۔

(جاری ہے)

ان دنوں تانبے کے سکے بنانے پر پابندی تھی۔ سکوں کو زنک کی تہہ والے سٹیل سے بنایا جاتا تھا۔ان دنوں غلطی سے 20 سکے تانبے سے بن گئے  جنہیں ٹکسال کے کوڑے دان ، جہاں خراب دھات  پھینکی جاتی تھی،  میں ڈال دیا گیا۔کوڑے دان سے یہ سکے کسی طرح مارکیٹ میں گردش کرنے لگا۔ امریکی حکومت کئی  سالوں تک 1943 میں  بنے تانبے کے سکوں کا انکار کرتی رہی۔ ڈون نے بھی جب حکومت سے سکے کے بارے میں پوچھا تو انہیں بھی جواب ملا کہ ان کا سکہ جعلی ہے۔تاہم ڈون نے سکہ اپنے پاس محفوظ رکھا۔
اسی کے ساتھ کا ایک سکہ 2010 میں 1.7 ملین ڈالر میں فروخت ہو چکا ہے۔ امید ہے کہ ڈون  کا سکہ بھی 1 ملین ڈالر سے زیادہ میں ہی فروخت ہوگا۔

لڑکے کو کھانے کے لیے ملنے والی رقم  میں موجود  پینی کا سکہ  دس لاکھ ڈالر ..
وقت اشاعت : 11/01/2019 - 23:53:46

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments