پہلی جنگ عظیم کے موثر ہینڈ گرینڈ کو آلو سمجھ کرچینی چپس فیکٹری پہنچا دیا گیا

پہلی جنگ عظیم   کے موثر ہینڈ گرینڈ کو  آلو سمجھ کرچینی چپس فیکٹری پہنچا ..

ہانگ کانگ کی ایک چپس فیکٹری میں آلوؤں کو پراسس کرنے والی خود کار مشینری نے ایک آلو کی وجہ سے کام کرنا بند کیا تو نگران کو فوراً ہی وجہ کا بھی پتا چل گیا۔اصل میں پہلی جنگ عظیم کا ایک ہینڈ گرینڈ، جو بالکل  بڑے آلو کی طرح ہی دکھائی دیتا تھا، چپس فیکٹری پہنچ گیا تھا۔
ایک صدی پرانا یہ ہینڈ گرنیڈ بے  شک باہر سے زنگ آلود تھا لیکن اندر سے موثر تھا اور دھماکہ کر سکتا تھا۔

جنگ عظیم میں جرمنی کے لیے بنایا گیا یہ ہینڈ گرنیڈ فرانس میں آلو سمجھ کر کھیتوں میں کاشت کر دیا گیا تھا، جہاں سے یہ باقی فصل  کے ساتھ ہانگ کانگ کی کالبی فور سیز کمپنی میں پہنچ گیا۔
ہانگ کانگ پولیس فورس نے فوری طور پر اس ہینڈ گرینڈ کو  سیوریج کے ایک خالی نالے میں پانی کے پریشر سے اس کا دھماکہ کیا۔

(جاری ہے)

  سپریٹنڈنٹ  وونگ ہو ہون نے بتایا کہ جب اس ہینڈ گرینڈ کو پھینکا گیا تھا، یہ نہیں پھٹا تھا، اسی وجہ سے یہ آج تک ایک خطرہ ہی تھا اور اس سے درست طریقے سے نپٹنا ضروری تھا۔


2.2 پاؤنڈ وزنی یہ بارودی جنگی ڈیوائس عام آلو سے 5 گنا زیادہ بھاری تھا۔ اسے حادثاتی طور پر کھیت میں ہی اگا دیا گیا تھا۔
دنیا بھر کے ممالک میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے نہ پھٹنے والے لیکن موثر بم اور دوسری بارودی ڈیوائسز دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ ہانگ کانگ بپٹسٹ یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر اور فوجی تاریخ دان  ونگ چی مین نے بتایا کہ  جنگوں میں بمباری کے دوران جب مکمل خندقیں بیٹھ گئیں تو ان میں ہینڈ گرنیڈ بھی پڑے رہ گئے تھے، جو آج بھی ملتے رہتے ہیں۔
صرف پچھلے سال ہانگ کانگ پولیس فورس نے دوسری جنگ عظیم کے 1000 پاونڈ کے امریکی ساختہ  تین بموں کا ناکارہ کیا تھا۔


وقت اشاعت : 08/02/2019 - 23:51:44

Your Thoughts and Comments