بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینمحترمہ بے نظیر بھٹو

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
محترمہ بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو نہ اچانک آئیں اور نہ اچانک چھاگئیں۔ جہد مسلسل اور قربانیوں کی ایک ایسی داستان ہے جس پر بے نظیر بھٹو کو جتنا خراج تحسین پیش کیاجائے کم ہے۔
بے نظیر بھٹو نہ اچانک آئیں اور نہ اچانک چھاگئیں۔ جہد مسلسل اور قربانیوں کی ایک ایسی داستان ہے جس پر بے نظیر بھٹو کو جتنا خراج تحسین پیش کیاجائے کم ہے۔
پاکستان کی واحد سیاست دان خاتون جو چاروں صوبوں میں یکساں مقبول اور بجا طور پر چاروں صوبوں کی زنجیر کہلانے کی مستحق تھیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ اسلامی ممالک کی سیاست میں جو نام اور مقام بے نظیر بھٹو نے حاصل کیا وہ کسی اور خاتون کے حصے میں نہیں آیا۔ بے نظیر وہ واحد خاتون ہیں جنہوں نے جدید تاریخ میں بذریعہ انتخابات کسی اسلامی ملک کی سربراہ مملکت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ عوام نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اس تفخر کا مستحق ٹھہرایا۔
بے نظیر بھٹو، پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سب سے بڑی اولاد ،21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ابتدئی تعلیم انہوں نے لیڈی جیننگز نرسری اور کراچی کے جیزس اینڈ مری کانونٹ میں حاصل کی۔ دس سال کی عمر میں انہیں مری کے جیزس اینڈ میری کانونٹ میں بھیج دیا گیا اور اس کے چار سال بعد امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں۔
1973 میں ہاورڈ یونیورسٹی سے گریجوشن کرنے کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وہاں سے فلسفہ، سیاست اور معاشیات میں گریجویشن کی۔ دوران تعلیم انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے انتخابات میں بھی حصہ لیا اور یونین کی صدر منتخب ہوئیں۔ اپنی پوسٹ گریجویٹ سٹڈ یز مکمل کرنے کے بعد 1977 میں وہ وطن واپس لوٹ آئیں۔
1977 میں جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں مارشل لاء لگا دیاجس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار کا منہ دیکھنا پڑا اوربے نظیر کو حراست میں لے لیا گیا۔1979 سے 1984 تک کا عرصہ بے نظیر نے مختلف جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں جھیلتے اور مختلف مقامات پر نظر بند رہ کر گزارا۔ اس دوران انہوں نے دس ماہ کی قید تنہائی بھی کاٹی۔
1984 میں رہا ہونے کے بعد وہ خود ساختہ جلاوطنی کے تحت دو سال کے لئے انگلینڈ چلی گئیں۔ اگست 1985 میں وہ اپنے بھائی شاہ نواز بھٹو کی تدفین کے لیے واپس لوٹیں جسے فرانس کے شہر کینز میں زہر دے کر ہلاک کر دیا گیا گیا۔ اس کے ایک سال بعد مارشل لاء ہٹا لئے جانے پر وہ مستقل طور پر پاکستان آگئیں۔ 10اپریل 1986 کو ان کی واپسی پر لاہور ائیرپورٹ پر لاکھوں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ واپسی کے بعد انہوں نے پورے پاکستان میں ریلیاں منعقد کیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔
18دسمبر 1987 کو ان کی شادی آصف علی زرداری سے ہوئی۔ شادی کے بعد بھی بے نظیر، بے نظیر بھٹو کہلاتی رہیں۔ 1988 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے نمایاں کامیابی حاصل کی اور 35 سال کی عمر میں بے نظیر بھٹو پاکستان کی تاریخ کی کم عمر ترین وزیراعظم بن گئیں۔
بے نظیر نے اپنے پہلے دور حکومت میں 1989 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس کی صدارت کی ۔پی ایل او کے نمائندے کو سفیر کا درجہ دیا۔ امریکہ وبرطانیہ کے دورے کئے۔ بھارت کے ساتھ ساچین تنازعے پر مذکرات کئے اور پاکستان کو دوسری مرتبہ دولت مشترکہ کارکن بنوانے میں کامیابی حاصل کی۔
یکم نومبر1989 کو ان کے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جو ناکام رہی لیکن 16 اگست 1990 کو صدر پاکستان غلام اسحٰق خان نے آٹھویں ترمیم کے تحت اپنے اختیارات استعمال میں لاتے ہوئے اسمبلیاں توڑ دیں اور بے نظیر کو عہدہٴ وزارت عظمیٰ سے معزول کر دیا۔ 3 ستمبر 1990 کے بے نظیر بھٹو اور ان کے دس وزراء کے خلاف ریفرنس پیش کیے گئے اور ان کے شوہر آصف علی زرداری پر کئی مقدمات قائم کر کے انہیں جیل بھیج دیا گا۔
1990 کے انتخابات میں آئی جے آئی نے اکثریت حاصل کی اور نواز شریف وزیراعظم پاکستان بنے۔ بے نظیر نے پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی قائد کا عہدہ سنبھالا۔18مارچ 1993 کو ملکی حالات کے پیش نظر نواز شریف نے اپنے 41ساتھیوں سمیت وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور صدر غلام اسحٰق خان نے اسمبلیاں تحلیل کردیں۔
اکتوبر1993 میں ہونے والے انتخابات میں بے نظیر کی پارٹی نے ایک وفعہ پھر اکثریت حاصل کی اور بے نظیر دوسری مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم کے طور پر سامنے آئیں۔
بے نظیر کے پہلے دور حکومت کی طرح ان کا دوسرا دور حکومت بھی سیاسی عدم اطمینان اور تنازعات سے بھر پور تھا۔ اگرچہ کئی شعبہ جات میں بہتری بھی نظرآئی مثلاََ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔ پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان شعبہ توانائی میں دنیا کے سب سے بڑے معاہدے پر دستخط ہوئے جس کی مالیت ساڑھے سات ارب ڈالر تھی اور فرانس کی طرف سے ایٹمی بجلی گھر فرائم کرنے کاوعدہ کیا گیا۔
ان سب کے باوجود حالات کی کشیدگی برقرار رہی اور یہ کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب بے نظیر کے چھوٹے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو ان کی اپنی بہن کے عہد حکومت میں ایک انتہائی مشکوک پولیس مقابلے میں سات ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا گیا۔مرتضیٰ بھٹو کی ہلاکت کو سرکاری قتل قرار دیا گیا اور آصف زرداری کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
5 نومبر1996 میں صدر فاروق احمد خان لغاری نے مختلف الزامات کے تحت بے نظیر کو ان کے عہدے سے معزول کر دیا اور اسمبلیاں توڑ دیں۔
1997 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی حیرت انگیز طور پر ناکام رہی اور قومی اسمبلی میں صرف 18نشستیں حاصل کر سکی۔ بے نظیر پر مختلف مقدمات قائم کر کے عدالتی کاروائی کی گئی لیکن اسی دوران وہ ملک سے باہر چلی گئیں۔
18 اکتوبر 2007 کو جب بے نظیر پاکستان آئیں تو وہ ایک بدلی ہوئی اور بہت معتبر اور پختہ سیاست دان کا روپ اختیار کر چکی تھیں۔ پاکستان کی سیاست میں ایک تبدیلی کی فضاء قائم ہو چکی تھی یہ سب بے نظیر بھٹو نے ماضی کے تجربات سے سیکھا تھا۔
نواز شریف جیسے روایتی حریف بے نظیر بھٹو کی ذہانت اور نظریات کے قائل ہو چکے تھے۔ ملک کی فضاء میں بامقصد سیاست کا رجحان پروان چڑھ رہا تھا۔یہ سب بے نظیر بھٹو کی قربانیوں اور محنت کا صلہ تھا۔
27 دسمبر 2007 پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا دن جس نے پاکستان کی بنیادوں کوہلا کر رکھ دیا۔ لیاقت باغ کے کامیاب جلسے کے بعد واپسی پر پاکستان کے دشمنوں نے بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا ۔پورے پاکستان میں کہرام مچ گیا۔ قیامت کا سماں تھا بے نظیر بھٹو نے جان تو دے دی مگر رہتی دنیا تک اپنے نظیریات اور شخصیت کو زندہ کر گئیں۔
پاکستان کی تاریخ اور سیاست میں ہمیشہ ان کو ایک بہادر اور کامیاب خاتون کے نام سے جانا جائے گا۔

(5) ووٹ وصول ہوئے