بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینبیگم جہاں آراشاہنواز

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بیگم جہاں آراشاہنواز
بیگم جہاں آراشاہنواز 7 اپریل 1897 کو باغبانپورہ لاہور میں پیدا ہوئیں۔ان کے والد میاں محمد شفیع ایک روش خیال انسان تھے۔
بیگم جہاں آراشاہنواز 7 اپریل 1897 کو باغبانپورہ لاہور میں پیدا ہوئیں۔ان کے والد میاں محمد شفیع ایک روش خیال انسان تھے۔ انہوں نے زمانے کے عام رواج کے برعکس جہاں آراء کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی ٹھان رکھی تھی چنانچہ گھر پر ان کی ابتدائی تعلیم مکمل کروانے کے بعد میاں محمد شفیع نے جہاں آراء کو کوئیں میری کالج میں داخل کروایا۔
کوئین میری کالج میں آنے کے بعد ان کے علمی وادبی جوہر عیاں ہونا شروع ہوئے۔ انہوں نے خواتین کے مقتدررسائل میں تسلسل کے ساتھ مضامین لکھنا شروع کر دئیے۔1914 ء میں ان کی شادی سرشاہنواز با ایٹ لاء کے ساتھ ہوئی جو اقبال کے گہر دوستوں میں سے تھے۔ سرشاہنواز نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور مرکزی اسمبلی کے ممبررہنے کے علاوہ قائداعظم کے ساتھ بھی کام کیا۔
جہاں آراء کی ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ شادی کے بعد بھی جاری رہا۔ شادی کے بعد انہوں نے ڈپٹی ندیر احمد کے انداز میں ”حسن آراء بیگم “ نامی کتاب لکھی جسے ادبی حلقوں میں بے حد پسندیدگی حاصل ہوئی۔آپ کو اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی ملکہ حاصل تھا۔ انگریزی میں آپ نے اپنی شاہکار کتاب (Father & Daughter) (باپ اور بیٹی) تصنیف کی جس میں انہوں نے اپنے نامور والد میاں محمد شفیع کے حالات بڑے موٴثر انداز میں قلمبند کئے ہیں۔
سیاست میں پہلا قدم انہوں نے 1917 کی مسلم لیڈیز کانفرنس میں شرکت کر کے رکھا۔ اس جلسے میں انہوں نے خواتین کی اصلاح پر تقریر کر کے حاضرین جلسہ کو حیران کر دیا۔اس کے بعد ن کے سیاسی سفرکا آغاز ہو گیا۔ وہ خواتین کے حقوق کی پُر جوش داعی تھیں اور خواتین کے سیاسی حقوق کے لئے انہوں نے مسلسل سعی کی۔
1930 میں ہندوستان کے آئینی مسئلہ پر غور کر نے کے لئے لندن میں اولین گول میز کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ ان اجتماعات میں انگلستان اور ہندوستان کے قابل ترین نمائندے موجود تھے ۔ بیگم شاہنواز نے ہندوستان خواتین کی نمائندگی کی اور اس خوبی سے کی انہیں اس کا نفرنس کے بہترین مندوبین میں شمار کیا گیا۔ ان کی شاندار کارکردگی کی بناء پر انہیں دوسری اور تیسری کانفرنس میں بھی مسلسل نمائندگی کا اعزاز ملا۔
1930 میں آپ مجلس اقوام کی عورتوں اور بچوں کی کمیٹی میں ہندوستان کے نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہوئیں۔ 1937 میں آپ نے پنجاب اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی کے لئے الیکشن لڑا اور لاہور سے کامیاب ہوئیں۔ 1938 میں آل انڈیا مسلم لیگ کی خواتین کمیٹی کی رکنیت حاصل کی اور 1940 میں مسلم لیگ کے اس تاریخی اجلاس میں شرکت فرمائی جس میں قرار دادِ پاکستان پیش کی گئی۔
بیگم شاہنواز نے اپنے شب و روز مسلم لیگ کی خدمت کے لئے وقف کررکھے تھے۔ 1946 کے صوبائی انتخابات میں بھی آپ نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ 1946 میں ہی قائداعظم نے امریکہ میں تحریک پاکستان کی نشرواشاعت کے لئے ایک وفد بھیجنا چاہا اور اس وفد کے اراکین کے طور پر بیگم شاہنواز اور مرزا ابوالحسن اصفہانی کو منتخب کیا گیا۔ 1947 میں آپ پاکستان کی مجلس دستور ساز کی رکن منتخب ہوئیں۔
اس نامور خاتون نے 27 نومبر1979 کو وفات پائی۔ آپ کو میاں فیملی قبرستان باغبانپورہ میں آپ کے شوہر کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے