بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینحضرت سارہ علیہا السلام

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حضرت سارہ علیہا السلام
حضرت سارہ علیہا السلام زوجہٴ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور والدہٴ انبیاء ہیں ۔ آپ کی اولاد میں بے شمار نبی ہوئے۔ آپ نہایت پرہیز گار خاتون تھیں۔
حضرت سارہ علیہا السلام زوجہٴ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور والدہٴ انبیاء ہیں ۔ آپ کی اولاد میں بے شمار نبی ہوئے۔ آپ نہایت پرہیز گار خاتون تھیں۔
روایت ہے کہ آپ ملک شام کی شہزادی تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب عراق میں دعوتِ تبلیغ دینے کے بعد شام تشریف لائے تو وہاں کے بادشاہ نے آپ کی عزت فرمائی اور حضرت سارہ علیہا السلام کی شادی آپ سے کردی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام تبلیغ دین کی خاطر آگے چلے، سفر میں حضرت سارہ علیہا السلام آپ کے ساتھ تھیں۔آپ اپنے عظیم شوہر کی خدمت کرتیں اور ان کے آرام کا خیال رکھتیں۔ شام سے آپ مصر پہنچے۔ مصر میں اس وقت ایک نہایت ظالم بادشاہ حکمران تھا۔ اس بادشاہ نے مصر کی سرحدوں پر اپنے آدمی متعین کر رکھے تھے جو کہ آنے جانے والے تاجروں سے محصول وصول کیا کرتے تھے اور گزرنے والی خوبصورت عورتوں کو بھی بادشاہ کے پاس پیش کر دیا کرتے تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ علیہا السلام مصر پہنچے۔ چونکہ حضرت سارہ علیہا السلام خوبصورت خاتون تھیں اس لئے سرحدی محافظوں نے آپ کو بادشاہ کے پاس پہنچانا چاہا ۔ اس غرض سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا اور انھیں حضرت سارہ علیہ السلام کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ آپ نے اللہ کی رضا سے حضرت سارہ علیہ السلام کو بادشاہ کے پاس بھیج دیا۔ بادشاہ نے حضرت سارہ علیہ السلام کا حسن دیکھ کر بدنیتی سے آپ کی جانب دست دراز کیا تو اللہ نے اس کو عذاب میں جکڑ لیا۔ اس واقعہ کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت کے مطابق بادشاہ کا ہاتھ یا جسم پتھر بن گیا۔ اس نے حضرت سارہ علیہ السلام سے تین مرتبہ دعا کرائی اور ہر بار ٹھیک ہونے پر دست درازی کرنا چاہی لیکن ہر بار یہی انجام ہوا۔ آخر کار وہ تائب ہو گیا۔ ایک اور روایت کے مطابق وہ جونہی دست درازی کرنا چاہتا، اللہ اس کو ایسے عذاب میں پکڑتا کہ وہ مرگی کے مریض کی مانند تڑپنا شروع کر دیتا۔بہر حال وہ حضرت سارہ علیہ السلام کی دعا سے ٹھیک ہوا اور پھر اپنے بد ارادے سے تائب ہو گیا۔ اس نے ازراہِ عقیدت اپنی بیٹی یا کنیز ہاجرہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سپرد کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے اپنے عقد میں لے لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت سارہ علیہا السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نکاح کے وقت عہد لیا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپناکوئی اور نکاح حضرت سارہ علیہا السلام کی مرضی کے خلاف نہ کریں گئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام ،حضرت سارہ علیہا السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو لے کر کنعان چلے گئے اور وہاں رہائش اختیار کی۔ وہاں حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ آپ اللہ کے حکم سے حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کے بے آب و گیاہ ریگستان میں چھوڑ گئے۔
اس وقت حضرت سارہ علیہا السلام کی عمر 75 سال ہو چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حجرت ابراہیم علیہ السلام کو اولاد کی خوشخبری سنائی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب یہ خبر حضرت سارہ علیہا السلام کو سنائی تو انہوں نے کہا کہ کیوں مذاق کرتے ہو، بڑھاپے میں میری اولاد کیسے ہو سکتی ہے۔ بہر حال، ان کے بڑھاپے میں ان کے ہاں حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے اور یوں قدرتِ خداوندی اپنا رنگ دکھا کے رہی۔
حضرت سارہ علیہا السلام نے بادشاہ زادی ہونے کے باوجود تمام زندگی اپنے شوہر کے ساتھ سفر و حضر اور تبلیغ ودعوت کے سلسلے میں صعوبتیں جھیلتے ہوئے گزاری۔ ان کی زندگی ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے