بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینمادام کیوری

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مادام کیوری
مادام کیوری یا میری کیوری کا اصل نام ماریا اسکودوفسکا تھا۔ پولینڈ کے شہر وار سا میں 7 نومبر 1867 کو ایسے دور میں اس کی پیدائش ہوئی جب پولینڈ روس کے زیر تسلط تھا۔
مادام کیوری یا میری کیوری کا اصل نام ماریا اسکودوفسکا تھا۔ پولینڈ کے شہر وار سا میں 7 نومبر 1867 کو ایسے دور میں اس کی پیدائش ہوئی جب پولینڈ روس کے زیر تسلط تھا۔ اس کے والدین تدریس کے شعبے سے منسلک تھے۔ اس کے والد فزکس اور ریاضی کے استاد تھے۔ ان کی ایک لیبارٹری تھی جس کے مختلف کمروں میں ننھی میری پھرتی رہتی اور سائنسی آلات کو حیرت سے دیکھتی رہتی۔
یہ پولینڈ کی مصیبت کا دور تھا۔ سکولوں میں روسی کے علاوہ کوئی اور زبان نہ پڑھائی جاتی تھی۔ پولینڈ کی آزادی یا سابقہ دور کا ذکر کرنا جرم تھا۔ اس کے باوجود میری کے گھر میں ہمیشہ پولش زبان ہی بولی جاتی تھی۔ موسم گرما کی چھٹیوں میں اس کے والدین اسے پولینڈ کے جنوبی صوبوں کی طرف لے جاتے جو آسٹریا کے زیر حکومت تھے۔ وہاں میری جی بھر کر اپنی مادری زبان میں باتیں کرتی۔ محض چار سال کی عمر میں میری نے تفریخ کے طور پر پولش زبان کے تمام حروفِ تہجی یا د کر لئے اور ایک دن بغیر سکول جائے اپنے گھر والوں کو سبق سنا کر حیران کر دیا۔
جلد ہی اس کے والدین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اخراجات کی گاڑی چلانے کے لئے انہیں اپنے گھر کاکچھ حصہ کرائے پر دینا پڑا۔ ننھی میری کو اپنے والدین کا ہاتھ بٹانے کے لئے رات گئے تک کام کرنا پڑتا لیکن اس کی غیر تعلیمی مشقتیں اس کی تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز نہ ہو سکیں اور اس نے مقامی سکول میں تعلیم مکمل کر کے اعلیٰ کار کردگی کا تمغہ حاصل کیا۔
اس وقت پولینڈ میں خواتین کے لیے مزید اعلیٰ تعلیم کا کوئی انتظام نہ تھا چنانچہ میری کو ایک معزز گھرانے کے بچوں کی گورنس کی نوکری کرنا پڑی۔ تھوڑے دنوں میں یہ خاندان میری کے ساتھ نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آنے لگا۔ میری کے اطوار نہایت شائستہ تھے۔ اس کے علاوہ وہ ذہین ،حاضر جواب اور خوبصورت تھی۔ اسی خاندان کے ایک فرد کا سمیر نے اسے پسند کرنا شروع کر دیا لیکن گھر والوں کی مخالفت کے سبب یہ پسندیدگی کسی مستقبل بندھن میں تبدیل نہ ہو سکی۔ میری اپنی ضرورت کے تحت تین سال تک اس گھر میں نوکری کرتی رہی اور کچھ رقم جمع کر لینے کے بعد واپس اپنے گھر چلی گئی۔ اب بھی اس کے پاس اتنی رقم نہ تھی کہ کالج کی مہنگی تعلیم کا بوجھ اٹھا سکے۔ اسی دوران اسے پیرس سے اپنی بہن برونیا کا خط ملا جو ایک نوجوان فرانسیسی ڈاکٹر سے شادی کے بعد وہیں رہائش پذیر تھی۔ اس نے میری کو پیرس آنے کی دعوت دی اور اسے یقین دلایا کہ یہاں اسے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے موقع میسر آئیں گئے۔
اس کے بعد میری نے پیرس جانے کے لئے پیسے جوڑنا شروع کر دئیے۔ اس کی بہنیں ایک چھوٹی سی تجربہ گاہ چلاتیں، میری خود بھی پڑھتی اور بچوں کو بھی پڑھایا کرتی۔ بالآخر اس نے پیرس تک سفر کے اخراجات جمع کر لئے اور پھر اپنی بہن کو خط لکھ کر یقین دہانی چاہی کہ آیا وہ اسے اپنے گھر میں رکھنے کے لئے تیار ہے یا نہیں۔ جلد ہی برونیا ک طرف سے حوصلہ افزا جواب آگیا اور میری نے پیرس جانے کی تیاری کر لی۔
پیرس پہنچ کر اس نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ اس نے نہایت محنت اور جانفشانی سے پہلے سال کا امتحان پاس کر لیا۔ اس کو الیگزینڈروچ کا وظیفہ ملا تو وہ اگلے سال بھی تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہو گئی۔ گرمیوں کی چھٹیاں اس نے وارسا میں گزریں اور دوبارہ پیرس لوٹ آئی۔ اب اس نے تمام عمر فزکس اور سائنس کے لئے وقف کر دینے کا ارادہ کر لیا۔ کاسمیر والے واقعے کے بعد اس کا دل ٹوٹ چکا تھااور وہ تمام عمر شادی نہ کرنے کا تہیہ کر چکی تھی لیکن ایک دن قدرت نے ایسے اایک ایسی راہ پر لا کھڑا کیا جو اس کی شادی پر ختم ہوتی تھی۔
ایک دن میری نے اپنے ایک پولش دوست سے ذکر کیا کہ اس کے پاس ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں وہ سائنسی تجربات کر سکے۔ اس کے دوست نے اس کی ملاقات پیئر کیوری نامی ایک نوجوان سائنس دان سے کروائی۔ دونوں کے درمیان دائنس میں مشترکہ دلچسپی کا رشتہ جلد ہی محبت میں ڈھل گیا اور 26 جولائی 1895 کو ان دونوں عظیم سائنس دانوں کی شادی ہو گئی۔
ستمبر 1897 میں ان کے ہاں ان کی پہلی بیٹی آئرین پیدا ہوئی۔(آئرین نے بھی آگے چل کر فزکس کے ہی میدان میں نوبل پرائز حاصل کیا۔) میری کیوری اپنی سائنس ، بیٹی اور گھر پر برابر کی توجہ دیتی۔بیٹی کے پیدا ہونے کے کچھ عرصہ بعدمیری نے کسی ایسے مضمون کی تلاش شروع کی جس پر مقالہ لکھ کر وہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر سکے۔ ایک سائنسدان نے یہ اطلاع دی تھی کہ اس نے یورینیم کے ریزون میں ایک عجیب شے دیکھی ہے جس سے ایک نامعلوم قسم کی شعاعیں خارج ہوتی ہیں۔میری نے یورینیم پر ہی تجربات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے خاوند کا فارغ وت کا مشغلہ دھاتوں پر تجربات کرنا تھا۔ میری کے تجربوں نے اس کی توجہ اپنی جانب موڑلی۔ دونوں نے مسلسل تجربات کئے اور تجربات کے ایک طویل سلسلے کے بعد انہوں نے ریڈیم دریافت کر لیا۔ یہ یورینیم کے مقابلے میں ڈیڑھ سو گنا زیادہ تابکاری کی صلاحیت رکھتا تھا۔ 1898 سے 1902 تک انہوں نے چار سال مسلسل تجربات میں گزارے تاکہ دنیا پر ریڈیم پر کاوجود ثابت کرسکیں۔
1902 میں ریڈیم کی باقاعدہ دریافت شائع ہوئی اور سائنس کی دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ دونوں میاں بیوی کو بہت سے اعزازات ملے۔ 1903 میں انہیں ڈیوی میڈل اور فزکس کے نوبل پرائز کا حقدار قرار دیا گیا۔ دنیا بھر میں ان دونوں کی شہرت ہوگئی۔ دسمبر1904 میں ان کے ہاں دوسری بیٹی ایو پیدا ہوئی۔ اس کے دو سال بعد میری کو ایک جانگسل صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ 9 اپریل1906 کے دوز ایک ٹریفک حادثے میں اس کے شوہر پیئر کیوری کی موت ہوگئی۔ میری کیوری ساری زندگی اپنے اس عظیم نقصان کا دکھ محسوس کرتی رہی۔
شوہر کی وفات کے بعد میری کیوری کو ساربون میں فزکس کا پروفیسر مقرر کیا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھی۔ 1911 میں اسے ریڈیم اور پولونیم کی دریافت کرنے اور ریڈیم کو الگ کرنے پر کمیسٹری کا نوبل پرائز دیا گیا۔
میری کیوری نے پہلی جنگ عظیم میں انسانی وسائنسی خدمت کے کئی کام انجام دئیے۔ امریکہ میں ایک تقریب کے دوران اس سے پوچھا گیا کہ اس کے شوہر اور اس نے ریڈیم کے حقوق اپنے نام محفوظ کیوں نہیں کروائے؟ تو اس نے جواب دیا کہ ہم نے یہ کام انسانیت کی خدمت کے لئے کیا ہے دولت کمانے کے لئے نہیں۔
میری کیوری کا انتقال 6جولائی 1934 کو ہوا۔ ریڈیم سے مسلسل تجربات کے سبب اسے لیکیویمیا ہو گیا تھا جو اس کی موت کا سبب بنا لیکن اسی ریڈیم کی بدولت بالآخر آگے چل کر کینسر کے علاج کا طریقہ کار دریافت ہوا ۔ میری کیوری کے تجربات جہاں اس کی موت کا سبب بنے وہاں بہت سوں کے لئے زندگی کا پیغام لائے اور انہی کی بدولت اس کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے