بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینملکہ امة الحبیب

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ملکہ امة الحبیب
زوجہ امیر تیمور
آپ نہایت دلیر خاتون تھیں۔ آپ ترکستان میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد یزدانی عثمانی فرمانروا بایزید اول کے ایک جرنیل تھے۔آپ کے والد نے آپ کی تعلیم پر خاص توجہ دی اور گھڑ سواری اور فنونِ سپہ گری آپ کو سکھائے۔ آپ اپنے والد کے ساتھ کئی فوجی مہمات میں بھی شریک ہوئیں۔1401 میں سلطان بایزید کا مقابلہ امیر تیمور سے ہوا۔ اس میں سلطان بایزید نے شکست کھائی۔ امیرتیمور نے سلطان بایزید اور اس کی فوج کے سینکڑوں سپاہیوں اور افسروں کو گرفتار رک لیا ۔ امیر تیمور نہایت ظالم بادشاہ تھا۔ اس نے تمام قیدیوں کے قتل کا حکم دیا۔ ان قیدیوں میں امة الحبیب بھی مردانہ لباس میں تھیں۔ آپ کسی نہ کسی طرح امیر تیمور کے سامنے پیش ہوئیں اور اس کے سامنے ایک زبردست تقریر کی اور اس کو آخرت کا خوف دلایا۔ ان کی تقریر سے متاثر ہو کر امیر تیمور نے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا اور امة الحبیب کے والد سے ان کا رشتہ مانگ لیا۔ والد نے یہ رشتہ قبول کر لیا اور یوں دونوں کی شادی انجام پائی۔
امیر تیمور نے امة الحبیب کو حمیدہ بیگم کا خطاب دیا۔ امة الحبیب سے شادی کے تین سال بعد امیر تیمور کی وفات ہوگئی۔ اس دوران اس کی کوئی اولاد زندہ نہ بچی۔ امیر تیمور کے بعد امة الحبیب کو ان کے سوتیلے بیٹے نے تنگ کرنا شروع کر دیا۔تنگ آکر انہوں نے قسطنطنیہ میں پناہ حاصل کر لی اور آخردم تک وہیں رہیں ۔ آپ نے 61 برس کی عمر میں وفات پائی۔
امة الحبیب نہایت دانا ار علم دوست خاتون تھیں۔ آپ ترکی، فارسی، عربی اور چینی زبانیں بڑی مہارت سے بول اور لکھ سکتی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ آپ نے کچھ کتابیں بھی لکھیں جو تاریخ کے دھند لکوں میں کھوگئیں۔

(1) ووٹ وصول ہوئے