بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینرضیہ سلطانہ

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رضیہ سلطانہ
ہندوستان کی تاریخ میں دہلی کے تخت پر بیٹھنے والی پہلی اور آخری مسلم خاتون حکمران جسے رضیہ سلطان اور رضیہ سلطان کے ناموں سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
ہندوستان کی تاریخ میں دہلی کے تخت پر بیٹھنے والی پہلی اور آخری مسلم خاتون حکمران جسے رضیہ سلطان اور رضیہ سلطان کے ناموں سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
رضیہ سلطانہ خاندانِ غلاماں کے تیسرے فرمانروا سلطان شم الدین التمش کی بیٹی اور اسی خاندان کے پہلے فرمانروا سلطان قطب الدین ایبک کی نواسی تھی۔ بچپن ہی سے وہ بڑی ذہین و فطین تھی۔ سلطان التمش کو علم سے گہرا لگاوٴ تھا۔ اسی لیے اس نے اپنی بیٹی کی تعلیم وتربیت پر بھی توجہ دی۔ رضیہ نے ابتدا قرآن پاک پڑھا پھر دوسرے علوم تک رسائی حاصل کی۔ اس نے عربی، فارسی اور ترکی میں اعلیٰ دستگاہ حاصل کی اور فنونِ حرب وضرب میں مہارت حاصل کی۔اس کے اعلیٰ اوصاف کی بناء پر التمش اسے بے پناہ عزیز رکھتا تھا اور اسے کاروبارِ حکومت چلانے کے گر بھی بتاتا تھا اور وقتاََ فوقتاََ امورِ مملکت میں اس سے مشورہ بھی لیتا تھا۔ اگر کبھی کسی مہم کے سلسلے میں دار الحکومت سے باہر جانا پڑتا تو بیٹوں کی موجودگی کے باوجود رضیہ کو ہی قائم مقام بنا کر جاتا ۔ وہ اس کی غیر حاضری میں حکومت کے کام خوش اسلوبی سے انجام دیتی اور نظم ونسق میں کسی قسم کا خلل نہ پڑنے دیتی ۔اس طرح اس کو التمش کی زندگی میں ہی حکومت سنبھالنے کی عملی تربیت مل گئی تھی۔
سلطان جانتا تھا کہ اس کی عدم موجودگی میں ایک عورت کا زیر اقتدار کام کرنا عمائدین سلطنت کو ناگوار گزرتا ہوگا چنانچہ اپنے اس اقدام کی حمایت میں،” فتوح السلاطین“ کے مصنف عصامی کے بیان کے مطابق ایک مرتبہ اس نے اپنے امراءِ حکومت کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا۔”یہ درست ہے کہ میری بیٹی رضیہ ایک عورت ہے مگر اس میں بھی کوئی مبالغہ نہیں کہ اس کا دل ودماغ مردوں جیسا ہے اور جتنا میرے سارے بیٹوں کا حوصلہ اور دماغ ہے اس سے کہیں بڑھ کر رضیہ علم و دانش ،ہمت اور دلاوری سے بہرہ مندہ ہے۔“
سلطان التمش کے آٹھ بیٹے تھے۔ ایک بیٹا اس کی زنگی میں ہی فوت ہو گیا۔ باقی پر قابلیت اور حسن سیرت کے اعتبار سے وہ رضیہ کو ترجیح دیتا تھا۔ ایک روایت ہے کہ اس نے بستر مرگ پر اپنے بیٹے فیروز شاہ رکن الدین کو تاج وتخت سونپ دیا لیکن کچھ موٴرخین کے مطابق اس کی خواہش یہی تھی کہ رضیہ سلطانہ ہی اس کے بعد تخت پر بیٹھے۔ بہر حال،جب التمش نے وفات پائی تو امرائے دربار نے عورت کی حکمرانی کو ناپسند کرتے ہوئے اس کے بیٹے رکن الدین فیروز شاہ کو تخت پر بیٹھا دیا۔ وہ پرلے درجے کا اوباش اور عیاش شخص تھا۔ ہروقت شراب کے نشے میں دھت رہتا اور سلطنت کا انتظام اس کی ماں شاہ ترکان چلاتی۔ وہ بڑی سنگدل عورت تھی۔ اس کے مظالم سے لوگوں میں سخت بے چینی پھیل گئی۔ آخر 634 ھ میں دہلی کے عوام اور فوج نے ایک حصے کی جانب سے رکن الدین فیروز کو معزول کر کے رضیہ کے سلطان ہونے کا اعلان کر دیاگیا۔
رضیہ سلطانہ نے عوام سے وعدہ کیا کہ ان کی فلاح وبہود کے لئے وہ ممکن کوشش کرے گی۔ اس کے تمام تر اوصافِ حمیدہ کے باوجود وزیر سلطنت نظام الملک محمد جلیدی، متعدد عمائدین سلطنت نے ، جن میں ملک علاوٴالدین، شیرخانی، ملک سیف الدین کوچی، ملک اعزالدین کبیرخانی وغیرہ شامل تھے اسے سلطانہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے خلاف بغاوت کی تیاری شروع کر دی۔ مگر رضیہ سلطانہ نے تنہااپنی تدبیر وشجاعت سے ان کے درمیان ایسی پھوٹ ڈلوائی اور انہیں ایسا زچ کیا کہ وہ اِدھر اُدھر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے تھے اور انہیں کہیں پناہ نہ ملتی تھی۔
رضیہ سلطانہ نے ان تمام قوانین وضوابط کو جو اس کے والد کے عہد میں نافذ تھے اور رکن الدین کے زمانے میں منسوخ کر دئیے تھے ازسر نو نافذ کیا اور مختلف عہدوں پر ایسے لوگوں کو فائز کیا جو حقیقی معنوں میں قابل اور باصلاحیت تھے۔ رضیہ سلطانہ کانظام حکومت نہایت عادلانہ تھا۔وہ امیر وغریب ، مسلم وغیر مسلم ہر ایک کے ساتھ انصاف کرتی تھی۔ مظلوموں کی فریاد سنتی اور ظالموں کو سزا دیتی۔ اس کے دورِ حکومت میں شاہی ملازمین میں سے کسی کو رشوت لینے کی ہمت نہ تھی۔
رضیہ سلطانہ مردانہ لباس پہنتی تھی اور قباء کلاہ کے ساتھ دربار میں بیٹھتی تھی۔ وہ ہاتھی کی سواری بھی کرتی تھی لیکن گھوڑے کی سواری اسے زیادہ پسند تھی۔ جنگ کے وقت افواج کوخود ترتیب دیتی اور اپنے سپاہیوں کے دوش بدوش میدانِ جنگ میں دادِ شجاعت دیتی تھی۔ اپنے دورِ حکومت کے آخر میں نے پردہ ترک کر دیا تھا اور بلانقاب دربار میں آتی تھی۔ اس نے قاضی کبیر الدین ،قاضی نصیر الدین، قاضی سعید الدین، اور قاضی جلال الدین پر مشتمل ایک مجلس قضاة قائم کی جس کے مشورے سے جملہ احکام صادر کئے جاتے تھے۔
رضیہ سلطانہ ایسے تمام اوصاف سے مزین تھی جو ایک عاقل اور صاحب رائے بادشاہ میں ہونے ضروری ہیں۔ اصحابِ نظر اس میں سوائے اس کے کہ وہ ایک عورت تھی حکمرانی کے لئے کوئی اور خامی نہیں پاتے تھے۔ اس نے امورِ سلطنت کو کامیابی سے چلانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی تھی لیکن امن وچین سے بیٹھنا اسے بہت کم نصیب ہوا اور اس کے متعدد امراء اس کے خلاف سازشوں میں برابر شریک رہے۔ ان کی مخالفت وعناد کے چند اسباب تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ رضیہ سلطانہ نے ایک حبشی غلام ملک جمال الدین یا قوت کو جو شاہی اصطبل کا مہتمم تھا، ترقی دے کر میر شکار کے عہدے پر فائز کر دیا اور ساتھ ہی اس کو امیر الامراء کا خطاب دیا۔ اس عنایت کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک لڑائی میں یا قوت نے رضیہ سلطانہ کی جان بچائی تھی۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ یا قوت ایک باصلاحیت آدمی تھا اس لئے سلطانہ نے اسے ترقی کا مستحق سمجھا لیکن ترک امراء نے اس کو غلط معنی پہنائے اور سلطانہ پر بہتان تراشی کی۔
مخالف امراء کی سازشوں کانتیجہ یہ نکلا کہ پہلے لاہور کے حاکم عزیز الدین نے بغاوت کی ۔ سلطانہ اس کو سرکوبی کے لئے فوج لے کر خود روانہ ہوئی۔ حاکم لاہور کو مقابلے پر آنے کی جرأت نہ ہوء اور اس نے بغیر جنگ کے اطاعت قبول کر لی۔
اس کے کچھ عرصہ بعد ملک اختیار الدین التونیہ حاکم بٹھنڈہ نے علم بغاوت بلند کیا۔سلطانہ اس کا مقابلہ کرنے کے لشکر لے کر دہلی سے چلی ۔ ایک روایت کے مطابق اسے شکست ہوئی اور وہ گرفتار کر لی گئی۔ دوسری روایت کے مطابق سازشیوں نے اس کے خیمے پر شب خون مارا اور اسے گرفتار کر کے ملک التونیہ کے سپرد کر دیا۔ دوسری طرف دہلی میں ترک امراء نے یا قوت کو قتل کر کے رضیہ سلطانہ کے بھائی معز الدین بہرام کو تخت شاہی پر بٹھا دیا۔ یہ واقعہ رمضان 636 ہجری کا ہے۔
ملک التونیہ نے رضیہ سلطانہ سے شادی کر لی۔ پھر دونوں لشکر لے کر کھوئے ہوئے تخت کی بازیابی کے لئے دہلی کی طرف روانہ ہوئے۔ کیتھل کے قریب ان کا معاملہ معز الدین کی فوج سے ہوا جس میں رضیہ سلطانہ اور ملک التونیہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں کو گرفتار کر لیا گیا اور اگلے روز معز الدین کے حکم سے دونوں کو قتل کر کے وہیں دفن کر دیا گیا۔ بعد میں رضیہ سلطانہ کے چھوٹے بھائی سلطان ناصر الدین محمود نے دونوں کی قبروں پر ایک خوبصورت مقبرہ تعمیر کرایا جو آج بھی کیتھل ( ضلع کرنال مشرقی پنجاب بھارت) میں کھنڈر کی صورت موجود ہے اور اس سے ملحق ایک مسجد کے بھی کچھ آثار باقی ہیں۔
رضیہ سلطانہ کی موت کے متعلق ایک اور روایت بھی بیان کی جاتی ہے وہ یہ کہ ملک التونیہ کو تو قتل کردیا گیا لیکن رضیہ جان بچا کر جنگ میں چھپ گئی۔ جب بھوک پیاس نے تنگ کیا تو دہقان سے کھانے کو کچھ مانگا۔ روٹی کھا کر وہ آرام کیلئے ایک درخت کے سائے میں لیٹ گئی اور سو گئی۔ اس وقت وہ مردانہ لباس میں تھی لیکن نیند کی حالت میں کپڑے ادھر اُدھر کھسکے تو دہقان کو پتہ چل گیا کہ وہ مرد نہیں عورت ہے اس نے رضیہ کے زیوروں کے لالچ میں اسے قتل کر دیا اور وہین دفن کر دیا۔ جب وہ زیورات فروخت کرنے شہر گیا تو پکڑا گیا۔ پوچھ گچھ پر اس نے سارا قصہ سنایا چنانچہ ملکہ کی نعش کو وہاں سے نکال کر دہلی کے قریب دریائے جمنا کے کنارے دفن کیا گیا۔ یہ قبراب بھی موجود ہے لوگ اسے رجی کی درگاہ کہتے ہیں۔
رضیہ سلطانہ بڑی باتدبیر ،زیرک، بہادر ،انصاف پسند، خوش اخلاق اور علم دوست خاتون تھی۔ علماء صوفیا ء سے اسے بڑی عقیدت تھی اس نے متعدد مدرسے قائم کئے اور تبلغ اسلام میں خواجہ بختیار کاکی کے خلفاء کی اعانت کی۔ اس نے مہرولی میں اپنے والد کا مقبرہ بھی تعمیر کرایا۔ شعروسخن میں وہ عمدہ ذوق رکھتی تھی۔ وہ فارسی کی نغزگوتھی اور شیریں تخلص کرتی تھی۔
ملکہ رضیہ سلطانہ کا دورِ حکومت صرف تین سال اور تین ماہ پرمحیط ہے۔ اس مدت کا بیشتر حصہ انتشار میں گزرا پھر بھی اس کے دورِ حکومت کے کئی خوشگوار واقعات تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔

(1) ووٹ وصول ہوئے