بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالی عنہا

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالی عنہا
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رئیس بنو نضیر سردارِ یہود حیی بن اخطب کی صاحبزادی تھیں،ان کی والدہ فرد بنت سمورال بنو قریظہ کے رئیس کی بیٹی تھیں۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا رئیس بنو نضیر سردارِ یہود حیی بن اخطب کی صاحبزادی تھیں،ان کی والدہ فرد بنت سمورال بنو قریظہ کے رئیس کی بیٹی تھیں۔ ان کے دادا اور نانا اپنی قوم میں سردار تھے اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نبی خدا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے تھیں۔ آپ بے حد حسین تھیں اور آپ کا نام زینب تھا۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکاح کے بعد آپ کو صفیہ یعنی انتخاب کردہ کہا جانے لگا۔ رسول اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم نے نکاح سے پہلے آپ کے دو نکاح ہوئے۔ پہلا نکاح مشہور شاعر اور سردار سلام بن مشکم القر ظی سے ہوا ۔ اس سے طلاق کے بعد آپ کا نکاح خیبر کے قلعہ القموص کے سردار کنانہ بن ابی الحقیق کے ساتھ ہوا۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ابھی کنانہ بن ابی الحقیق کی زوجیت میں تھیں کہ انہوں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک چاند ان کی گود میں آکر گرا ہے ۔ انہوں نے اپنا خواب اپنے شوہر کنانہ کو بتایا تو اس نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم حجاز کے بادشاہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آرزو کر رہی ہو۔ یہ کہہ کر اس نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر ایسا زور دار طمانچہ مارا کہ آپ کی آنکھ نیلی پڑ گی اور چہرے پر نشان پڑ گیا حتیٰ کہ یہ نشان رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آنے پر بھی موجود تھا۔ آپ صلی علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے تمام واقعہ سنا دیا۔
آپ رضی اللہ عنہاکے نکاح کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ آپ خیبر میں رہائش پذیر تھیں اور اس وقت خیبر یہودیوں کی آماجگاہ بن گیا تھا۔ حی بن اخطب کے قتل کے بعد خیبر کے یہودیوں کی قیادت کنانہ کے ہاتھ میں آگی تھی۔ اس نے عرب کے مختلف قبائل کو مدینہ کی ریاست کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ اس کی سرکوبی ضروری تھی۔ محرم 7 ہجری میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت خیبر کے قلعے یکے بعد دیگرے فتح ہوتے گئے اور آخر میں قلعہ القموص رہ گیا۔ اس کو ناقابل شکست سمجھا جاتا تھا لیکن اسلامی حملے کے سامنے ڈھیر ہو رہا۔ کنانہ بن ابی الحقیق لڑتا ہوا مارا گیا اوراس کے اہل وعیال قیدی بنا لیے گئے۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہا کی فتح کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور ان کی چچا زاد بہن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے چلے، راستے میں یہودیوں کی لاشیں بکھری تھیں۔ ان کی بہن یہ دیکھ کر چیخ اٹھی اور سر میں خاک ڈالنے لگی لیکن حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنا وقار ملحوظِ خاطر رکھا اور کنانہ کی لاش کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنے ماتھے پر شکن بھی نہ آنے دی۔
خیبر کی فتح کی بعد رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑنے کے قابل یہودیوں کو قتل کرا دیا اور ان کے خاندانوں کی قیدی بنا لیا۔ ان میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو کہ بطور لونڈی حضرت وحیہ کلبی رضی اللہ عنہا کے حصہ میں آئیں۔ ان کو بعد میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیااور اان کی آزادی کو ہی ان کا مہر قرار دیا۔
واپسی پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو لوگوں سے پردہ کرایا تو لوگوں نے سمجھ لیا کہ آپ ازواج مطہرات میں شامل ہو گئی ہیں۔خیبر سے مدینے روانگی کے وقت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے زانو پر قدم رکھنے کا کہتے اور وہ اونٹ پر سوار ہوتیں۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ اخلاق والا شخص نہیں دیکھا ۔ خیبر سے واپسی پر اونٹ پر بیٹھے ان کا سر (نیند کی حالت میں) کجاوہ سے لگنے لگتا تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا سرتھامتے اور دھیان سے بیٹھنے کا کہتے۔
مدینہ پہنچ کر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے جاں نثار صحابی حضرت حارث رضی اللہ عنہا بن نعمان کے مکان میں اتارا۔ اس مکان میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنت حجش، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا برقعہ پہنے انصار کی عورتوں کے ساتھ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھنے کے لئے تشریف لائیں۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ پہنچ کر اپنی دریا دلی کا ثبوت دیا اور اپنی سونے کی بالیاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ازواج میں تقسیم کیں۔
ام المومنین نے شہزادی ہونے کے باوجود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہایت سادہ اور پُر مشقت زندگی گزاری اور تمام عمر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑا۔ دیگر ازواج کی طرح حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی کھجور کی چھال کے بستر تھے۔ رات کے لئے روشنی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ گھر میں فرش نہ تھا۔ ایک غلام حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ ایک ایک ماہ تک چولہے میں آگ نہ جلتی تھی ۔ کھجور اور پانی پر گزارا ہوتا تھا۔ کبھی کبھار دودھ، جوکی روٹی ، گیہوں کی روٹی ،گوشت یا زیتون میسر آتا اور ان کے پاس پہننے کیلئے صرف ایک جوڑا تھا۔ آپ نمازیں پڑھا کرتی تھیں، روزے رکھتی تھیں، صدقہ و خیرات کرتی تھیں اور دیگر ازواج کے ساتھ نہایت وقار سے رہتی تھیں۔ آپ حسن صورت و سیرت کا مجسمہ تھیں۔
جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ وقت اپنے گھر میں محصور تھے تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ان کے لئے کھانا بھجوایا کرتی تھی۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا اور مرتے دم تک جاری رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہا 50 ہجری میں رمضان کے مبارک مہینے میں 80 سال کی عمر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
اپنی وصیت میں آپ نے اپنی متروکہ جائیداد ثلث اپنے یہودی بھانجے کو دینے کے لئے کہا۔ لوگوں نے تامل کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی وصیت ک تعمیل کرائی۔ اپنا ذاتی مکان حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی میں ہی صدقہ کر ڈالا تھا۔

(1) ووٹ وصول ہوئے