بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینام المومنین حضرت سودہ بنت ذمعہ رضی اللہ تعالی عنہا

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین -
ام المومنین حضرت سودہ بنت ذمعہ رضی اللہ تعالی عنہا
ام المومنین حضرت سودہ بنت ذمعہ رضی اللہ عنہا کا تعلق قریش کے ایک معزز خاندان بنو عامر لوی سے تھا۔آپ کے نانا قیس،
ام المومنین حضرت سودہ بنت ذمعہ رضی اللہ عنہا کا تعلق قریش کے ایک معزز خاندان بنو عامر لوی سے تھا۔آپ کے نانا قیس، حضور اکرم صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کے پردادا ہاشم کی بیوی سلمیٰ کے بھائی تھے جن کا تعلق یثرب کے قبیلہ بنو نجار سے تھا ۔ اس طرح آپ دونوں کی ننھیال ایک ہی بنتی ہے۔ آپ کی کنیت ام الاسود تھی۔
ظہورِ اسلام سے قبل حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی شادی اپنے چچا کے بیٹے سکران بن عمرو سے ہوئی۔ ان سے آپ کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کانام آپ نے عبدالرحمٰن رکھا۔ آنحضرت صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئیں۔ آپ اپنے خاندان میں اسلام لانے والی پہلی خاتون تھیں۔
اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے اپنے خاندان میں تبلیغ اسلام شروع کر دی۔ آپ کی تبلیغ سے متاثر ہو کر آپ کے شوہر کے علاوہ کئی دیگر قریبی رشتہ داروں نے بھی اسلام قبول کر لیا ۔ اسلام قبول کرنے پر آپ کو اور آپ کے شوہر کو کفارمکہ کے ہاتھوں تکالیف کاسامنا کرنا پڑا لیکن آپ کے پائے استقامت میں لغزش نہ آسکی۔
جب مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت ملی تو کفارِ مکہ کے ستائے ہوئے افراد میں سے بہت سے اپنا گر بار اور وطن چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ کفارِ مکہ کی طرف سے سختیاں پہنچنے کے باوجود حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ حبشہ نہ گئے اور مکہ میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
جب دوسری مرتبہ حضوصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کو حبشہ جانے کا اذن ہوا تو آپ بھی اس دوسرے گروہ میں شامل ہوگئیں۔ آپ کے خاندان والوں نے پوری کوشش کی کہ آپ ہجرت نہ کرنے پائیں اور اگر کریں بھی تو خاندان کا کوئی فرد آپ کے ساتھ نہ جائے لیکن انہیں ناکامی ہوئی۔ جب حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت کی تو ان کے اور ان کے شوہر کے علاوہ خاندان کے کئی دیگر افرادبھی آپ کے ساتھ تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے خاندان میں ان کی شخصیت کتنی پُراثر تھی۔
کچھ عرصہ حبشہ میں گزرانے کے بعد آپ واپس مکہ لوٹ آئی۔ مکہ واپسی کے کچھ عرصہ بعد آپ نے خواب دیکھا کہ آپ بیٹھی ہوئی ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم آپ کی گردن پر ہیں۔ آ پ نے اس خواب کا ذکر اپنے شوہر حضرت سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا اس خواب کا مطلب ہے کہ میں بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہو جاوٴں گا اور تم حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج میں داخل ہوگئی۔
کچھ عرصہ بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے پھر خواب دیکھا کہ آسمان سے چاند ان کی آغوش میں آگرا ہے۔ اس مرتبہ بھی حضرت سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس خواب کی یہی تعبیر بتائی کہ مرا انتقال ہو جائے گا اور تم بنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت کا شرف حاصل کرو گی۔
مکہ واپسی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے اور انتقال کر گئے۔ اس سے پہلے ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہو چکا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ننھی بیٹیوں کی دیکھ بھال میں شکل پیش آرہی تھی۔ یہ دیکھتے ہوئے خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتے کی بات چلائی۔ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور ان کے خاندان والوں کی طرف سے یہ مبارک رشتہ فوراََ قبول کرلیا گیا۔ شوال 10 نبوی میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا حضور صلی علیہ وآلہ وسلم کے عقد میں آگئیں۔ 400 درہم حق مہر مقرر ہوا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقد میںآ نے والی پہلی خاتون تھیں۔
ہجرت کر کے مدینہ پہنچنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں مسجد نبوی کی تعمیر شروع کرائی اور مسجد کے ساتھ دو حجرے بنوائے جن کے میں سے ایک حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے لئے تھا اور دوسرا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لئے جن سے نکاح ہو چکا تھا لیکن رخصتی عمل میں نہ آئی تھی۔
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نہایت نیک فطرت اور پاکباز خاتون تھیں۔ چمڑہ سازی میں آپ کو مہارت حاصل تھی۔آپ طائف کی کھالیں بناتی تھیں جس کی وجہ سے آپ کی مالی حالت تمام ازواج مطہرات سے بہتر تھی۔ اس کام سے ہونے والی آمدنی کو آپ بڑی فراخدلی سے غرباء و مساکین میں تقسیم کر دیا کرتی تھیں۔
ایک دفعہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کو بورے میں درہم بھر کے بھیجے ۔ دیکھ کر آپ نے پوچھا۔ ”یہ کیا ہے؟“
لوگوں نے بتایا۔”درہم ہیں۔“
آپ نے کہا۔کیا بورے میں کھجوروں کی طرح؟“
یہ کہہ کر اپنی باندی کو برتن لانے کی ہدایت کی اور اس برتن میں وہ درہم ڈال کر غرباء اور مساکین میں کھجوروں کی طرح تقسیم فرما دئیے۔
آپ کا وصال 14 ہجری میں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر 72 سال تھی۔ وفات سے پہلے آپ نے اپنا گھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دینے کی وصیت کی تھی۔
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا کردار اور ان کا مقام کیا تھا، یہ جاننے کے لئے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان ہی کافی ہوگا۔
”میں نے سودہ کے سوا کسی اور عورت کو جذبہ رقابت سے خالی نہیں دیکھا، اور ان کے سوا کسی اور عورت کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خواہش پیدا نہیں ہوئی کہ اس کے جسم میں میری روح ہو۔“

(1) ووٹ وصول ہوئے