بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینام المومنین حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہا

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ام المومنین حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہا
آپ رضی اللہ عنہا کا حقیقی نام رملہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا کے والد ابی سفیان اور والدہ صفیہ بنت العاص تھیں۔
آپ رضی اللہ عنہا کا حقیقی نام رملہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا کے والد ابی سفیان اور والدہ صفیہ بنت العاص تھیں۔ بعض موٴرخین نے آپ رضی اللہ عنہا کا نام رملہ اور بعض نے ہند بھی لکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے سترہ سال قبل پیدا ہوئیں۔آپ اوائل اسلام میں ہی مسلمان ہوگئی تھیں۔ آپ کا پہلا نکاح عبیداللہ بن حجش سے ہوا تھا۔ عبیداللہ بن حجش حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن حجش کا بھائی تھا۔ عبیداللہ بن حجش نے حبشہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرت کی۔وہاں ان کی لڑکی حبیبہ پیدا ہوئی جس کے نام پر ان کی کنیت ام حبیبہ مشہور ہو گی۔ حبشہ میں عبداللہ بن حجش نے مرتد ہو کر عیسائیت اختیار کرلی اور شراب وکباب میں منہمک ہو کر اپنی جان ضائع کر دی۔ اس کے مرنے کے بعد رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی کے ذریعے سے آپ رضی اللہ عنہا کی عدت کے بعد پیغام نکاح بھیجا جو کہ آپ نے قبول فرمایا اور آپ کا نکاح رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہا المومنین بن گئیں۔
ایک اور روایت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حبشہ میں نہیں بلکہ مدینہ میں ہوا تھا۔
رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے نکاح میں آنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہا رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتی تھیں۔ فتح مکہ سے قبل ایک بار ابو سفیان مدینہ آئے تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی بیٹی کے گھر جانے کا قصد کیا ۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد کو وہاں پہنچ کر رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر نہ بیٹھنے دیا کہ وہ کافر ہیں او ایک کافر ایک نبی کے بستر پرنہیں بیٹھ سکتا۔ آپ رضی اللہ عنہا حدیث پر نہایت شدت سے عمل پیرا ہوتی تھیں اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید کرتی تھیں۔
وفات کے وقت آپ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر ان سے عمدہ کلام کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا فطر تاََ نیک سیرت تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا سے کئی احادیث منقول ہیں ۔
آپ رضی اللہ عنہا نے 44 ہجری میں انتقال فرمایا۔ ان کے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہا بن ابی سفیان اس وقت حکمران تھے۔
ابن عساکر کی روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کو ملنے دمشق گئیں اور وہیں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کی قبر دمشق میں ہے لیکن دیگر موٴرخین کے مطابق آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال مدینہ میں ہوا اور آپ کی قبر بھی وہیں پر ہے۔ وفات کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر 73 برس تھی۔ حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ میں نے ایک بار اپنے مکان کا گوشہ کھدوایا تو وہاں سے ایک کتبہ ملا جس پر لکھا تھا۔ یہ رملہ بن صغر کی قبر ہے چنانچہ میں نے اس کو وہیں رکھ دیا۔
عبید اللہ بن حجش سے آپ کی دو اولاد دیں ہوئیں۔ ایک عبداللہ اور ایک حبیبہ۔ حبیبہ نے آغوشِ رسالت میں تربیت پائی اور عروہ بن مسعود ثقفی رئیس اعظم قبیلہ ثقف کے بیٹے داوٴد سے منسوب ہوئیں۔
آپ رضی اللہ عنہا سے بخاری اور مسند احمد کی احادیث مروی ہیں۔ ابوسفیان کے انتقال پر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان فرمائی:
”کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے ، یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مرنے والے کا تین دن سے زائد سوگ کرے۔ البتہ اپنے شوہر کے لئے چاہر ماہ دس دن سوگ کرنا چاہیے۔“

(1) ووٹ وصول ہوئے