ہمیں پنکھ دو

Hamain Pankh Do

کرن صمد جمعہ مارچ

Hamain Pankh Do
خواتین کسی بھی معاشرے کا ایک اہم جزو ہیں خواتین قوم و ملک کی ترقی میں نہ صرف اہم ستون کا کام کرتی ہیں بلکہ کسی بھی کام میں اب پیچھے نہیں رہیں۔ خواتین اس سیارے پر زندگی کے اہم تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ دور قدیم میں عورت کو صرف بیوی اور ماں کی حیثیت حاصل تھی جو کھانا پکاتی گھر کا کام کرتی اور گھر کے دیگر افراد کی دیکھ بھال کرتی تھی۔

اگر ہم زمانہ قدیم کے مقابلے میں خواتین کی موجودہ حالت پر غور کریں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ خواتین نے اس معاشرے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوالیا ہے خواتین نہ صرف پائلٹ ہیں بلکہ انجینئر بھی ہیں ڈاکٹر وکیل انٹرپرینیور   اور بزنس وومن بھی ہیں۔گویا کہ اب خواتین گھروں میں قید نہیں خواتین کا اس معاشرے میں نہ صرف ایک الگ شخص ہے بلکہ اب یہ مردوں کے شانہ بشانہ زندگی کے ہر میدان میں خدمات سرانجام دیتی دکھائی دیتی ہیں۔

(جاری ہے)

کہیں خواتین سیاست  میں دکھائی دیتی ہیں تو کبھی کھیل کے میدان میں۔کہیں خواتین وائلڈ لائف فوٹوگرافرہیں تو کہیں خواتین کوہ پیما۔ گویا کہ خدا کے اس بنائے ہوئے نظام میں خواتین کا کردار اور اہمیت بالکل وہی ہے جو کہ انسان کے لئے قدرتی نعمتوں کی۔ دور حاضر میں جہاں اتنی ترقی ہوئی ہے وہیں انسانی معاشرے میں بے ہنگم رویوں بدعنوانیوں اور اشتعال انگیزی نے بھی جنم لیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ زندگی کی ہر دوڑ میں خواتین کا مردوں کے شانہ بشانہ ہونا ایک کامیاب معاشرے کی پہچان ہے۔ مگر جب وطن عزیز کی بات کی جائے تو یہاں خواتین کی ترقی کا دائرہ کار بےحد محدود ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں کالجوں اور یونیورسٹیوں سے گریجویٹ ہونے والی لڑکیاں یا تو شادی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں یا پھر گھر بیٹھ کر اپنے خاندان کی عزت کی حفاظت کی یقین دہانی کرواتی ہیں کیونکہ انہیں اس بات کی اجازت ہی نہیں دی جاتی کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک و قوم کی تقدیر سنوارنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

کٸی تو اس قدر بے بس اور بے چاری ہیں جو اعلی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی اپنی ڈگری کو استعمال نہیں کر پاتی۔ زندگی محنت ومشقت کا نام بھی ہے زندگی افسانوی تکیوں پر گزارے گئے چند لمحات کا مجموعہ ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ جدو جہد مسلسل کا نام ہے ۔افسوس کے آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خواتین اپنے تقدس اور اپنی حرمت کو لے کر کی تحفظات کا شکار ہیں۔

کبھی عوض نور سامنے آتی ہے تو کبھی کوئی زینب۔ کبھی کہیں پنڈی میں چودہ سالہ بچی ایک ننھی کلی کو جنم دیتے دکھائ دیتی ہے۔ نہ آسمان پھٹتا ہے نہ زمین اور ظلم کی داستانیں رقم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اگر وطن عزیز کے یہی حالات رہے تو تعلیم نسواں تو دور کی بات ایک وہ وقت آئے گا کہ جب خواتین اس معاشرے کے ظلم و ستم وحشت و درندگی کی بنا پر گھروں میں قید ہونا پسند کریں گی۔

حکومت نے ذینب بل تو منظور کر لیا مگر اس بات کی یقین دہانی نہیں کروائی کے مستقبل میں قانون کا شکنجہ اتنا مضبوط ہوگا کہ پھر کبھی کوئی زینب نہ  مرجھائے گی۔ پھر لڑکی ارفع کریم بنے گی۔ ہر لڑکی کے دل میں مریم مختیار بننے کی خواہش جاگے گی۔ جب خواتین اس معاشرے کے جبر سے آزاد ہوں گی تو ہر گھر میں بلقیس ایدھی ہوگی ہر طرف کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی لڑکی اپنی قابلیت و صلاحیت کی بنا پر روشن ستارہ بن کر ابھرے گی۔

لہذا ہماری آواز کو نہ روکا جائے نہ دبایا جائے۔ ہمیں اڑنے دیا جائے ہمیں خواب بننے کی اجازت دی جائے۔ پھر یوں ہو کہ ہمارے ان خوابوں کی تکمیل پر کام شروع کیا جاۓ۔ وہ خواب جو کل تک خواب تھے انہیں عملی جامہ پہنایا جائے۔ ہمارے ہنر کو آنکھیں ملیں۔ ہمارا جگ نام ہو۔ہم اپنی پہچان بنائیں ہمیں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے کسی  کے سہارے کی ضرورت نہ پڑے۔

ہم خود معاشرے میں اپنے وجود کی گواہی دیں۔ یوں ہم ترقی پائیں اور آگے بڑھیں یوں ہم تخلیق کار بنیں۔ یوں ہم ہدایت کار بنیں۔ یوں ہم جیون دان کریں۔ یوں ہم سائنس دان بنیں۔ یونہی ہم ملک کو بہتر بنائیں اور یوں ہی ہم خالق کو منائیں یوں ہمیں پنکھ دو ہم جگ سارا گھوم لیں۔ ہم آزاد فضا میں پنچی بن کر جھوم لیں۔ پھر نہ ہو کمی کوئی ہم کامیابی چوم لیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments