شاپنگ بیگز پر پابندی،16 جنوری سے کارروائی ہوگی

جمعہ جنوری 11:31

کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔02جنوری 2009 ء) سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی میں 150 مائیکرون سے کم وزن کی پولیتھین تھیلیوں (شاپنگ بیگز )کے بنانے، فروخت کرنے اور استعمال کرنے کےخلاف 16 جنوری 2009 سے بھرپور کارروائی کے لئے تیاریاں کررہی ہے تاکہ ناظم کراچی سید مصطفی کمال کی صدارت میں پلاسٹک بیگ منیوفیکچرز ایسوسی ایشن اور سٹی حکومت کے افسران کے 23 دسمبر 2008 کو مشترکہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کیا جاسکے۔

سٹی حکومت کراچی اور آل کراچی پلاسٹک بیگ مینوفیکچرزایسوسی ایشن کے درمیان اتفاق رائے سے طے ہوا تھا کہ 15جنوری 2009 کے بعد 150 مائیکرون اور18X24سائز کے پولیتھین بیگ بنانے ،فروخت کرنے اور استعمال کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ دوسرے تمام پولیتھن بیگز پر پابندی ہوگی۔

(جاری ہے)

پلاسٹک بیگ مینوفیکچرز رضاکارانہ طورپر اس بات کی پابندی کریں گے ، 150 مائیکرون اور مقررہ سائز سے کم پولی تھین بیگز شہر میں لانے لے جانے پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔

اگر کسی نے خلاف ورزی کی تو سٹی حکومت کے فرسٹ کلاس مجسٹریٹس سخت کارروائی کریں گے اور ایسوسی ایشن کے عہدیداران حکومت کی اس قانونی کارروائی میں بھرپور مددکریں گے۔پندرہ جنوری کے بعد نہ صرف مقررہ وزن اور سائز کے علاوہ پولی تھین بیگزکراچی میں بنانے، استعمال اور فروخت کرنے بلکہ دوسرے شہروں سے منگوانے، پلاسٹک بیگز مینوفیکچررز کو مقررہ سائز اور وزن سے کم پولےتھین بیگ دوسرے شہروں میں سپلائی کرنے اور ایکسپورٹ کرنے پر بھی پابندی ہوگی ، ان بیگز کی وجہ سے اربوں روپے خرچ کرکے پانی و سےفراہم کرنے والی لائنوں کا نظام مفلوج ہورہا ہے۔

یہ بیگز نہ صرف پانی و سیوریج کی لائنوں بلکہ نکاسی آب کے بڑے نالوں کو بھی بند کردیتے ہیں جبکہ ان کو جلانے سے کینسر جیسا موزی مرض بھی لوگوں کو ہو رہا ہے ۔ سٹی حکومت 15 جنوری کے بعد سخت اقدامات کرے گی۔ ناظم کراچی نےایڈیشنل ای ڈی او ریونیو کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں سخت اقدامات کریں کہ دوسرے شہروں سے بھی مقررہ وزن و سائز سے کم پولےتھین کراچی میں نہ لائی جائیں جبکہ مینوفیکچررز، ہول سےسیلرز، رٹیلرز اپنا اسٹاک 15 جنوری 2009 سے قبل ختم کرلیں۔

اس کے بعد کسی بھی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ سٹی حکومت کے ذرائع کے مطابق پلاسٹک بیگ مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی روشنی میں 15 جنوری تک سٹی حکومت پولیتھین بیگ کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی تاکہ پولیتھین بیگ کا تمام اسٹاک ختم کردیا جائے اور اس کے بعد 150 سے کم وزن اور متعلقہ سائز کے علاوہ پولیتھین بیگ نہیں بنائے جائیں گے۔