سندھ بھر میں 3 د ن کیلئے ،کوئٹہ میں 36ویں روز بھی سی این جی اسٹیشنز بند‘ پوٹھوہار ریجن میں بندش کا چھٹا روز ، سردی کے باعث گیس کی ڈیمانڈ بڑھنے پر سی این جی اسٹیشنز کو تین روز کے لیے بند کیا گیا،گیس اسٹیشنز جمعہ کی صبح 8 بجے کھلیں گے،سوئی سدرن گیس کمپنی کا اعلامیہ، کوئٹہ میں سی این جی بحران شدت اختیار کر گیا، شہر میں سی این جی پر چلنے والے 5ہزاررکشے اور 15 ہزارسے زائد چھوٹی گاڑیوں کے صارفین ‘ عام شہریوں اور دفاتر جانے والے ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا‘ ٹیکسی ڈرائیوروں کی چاندی ہوگئی

منگل جنوری 13:24

کراچی/کوئٹہ/اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 1جنوری2013ء ) سوئی سدرن گیس کمپنی نے سال نو کے آغاز پر سندھ بھر میں تین دن کیلئے سی این جی اسٹیشنز بند کردئیے، کوئٹہ میں سی این جی اسٹیشنز منگل کو 36ویں روز بھی بند رہے‘ وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی سمیت پوٹھوہار ریجن میں چھٹے روز بھی گیس بند رہی‘ گیس کی مسلسل بندش سے پورے علاقے میں پٹرول کی شدید قلت ‘ پٹرول پمپوں پر بدستور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی رہیں ۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلامیہ کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر کے تمام سی این جی اسٹیشنز کو منگل کی صبح آٹھ بجے سے 72 گھنٹے کے لیے گیس کی فراہمی بند کردی گئی۔ گیس اسٹیشنز جمعہ کی صبح 8 بجے کھلیں گے۔ سردی کے باعث گیس کی ڈیمانڈ بڑھنے پر سی این جی اسٹیشنز کو تین روز کے لیے بند کیا گیا۔

بندش سے پہلے لوگ گاڑیوں میں گیس بھروانے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے رہے۔

دوسری جانب کوئٹہ میں سی این جی بحران شدت اختیار کر گیا۔ منگل کو 36 ویں روزبھی فلنگ اسٹیشنزبند ہونے سے صارفین کی مشکلات کم نہیں ہوسکیں۔مالکان اور اوگرا کے درمیان قیمتوں کامعاملہ طے نہ ہونے کی وجہ سے کوئٹہ میں نجی سی این جی اسٹیشنز 36ویں روز بھی بندہیں۔ شہر میں سی این جی پر چلنے والے 5ہزاررکشے اور 15 ہزارسے زائد چھوٹی گاڑیوں کے صارفین شدید مشکلات سے دوچارہیں۔

کوئٹہ میں صرف ایک سرکاری سی این جی اسٹیشن کھلاہے جہاں صبح سے شام تک گاڑیوں اور رکشوں کی لمبی لائنیں روز کا معمول بن گئی ہیں۔ جڑواں شہروں راول پنڈی اوراسلام آبادمیں چھٹے دن بھی سی این جی اسٹیشنزبندہیں جس کی وجہ سے شہری شدیدمشکلات سے دوچارہیں۔ جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آبادمیں چھٹے روز بھی سی این جی اسٹیشنز بند ہیں۔ سوئی ناردرن حکام کاکہناہے کہ سی این جی کی بندش کی وجہ گھریلو صارفین کو گیس کے بہترپریشرکی فراہمی ہے۔ سی این جی کی بندش کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ بھی زیادہ موجودنہیں ، ایسے میں ٹیکسی ڈرائیوروں نے کرایوں میں من مانااضافہ کردیا جس سے دفاتر جانے والے ملازمین اور شہریوں کوشدیدمشکلات کاسامناہے۔

Your Thoughts and Comments