ایم کیو ایم کے خلاف فرقہ وارانہ قتل وغارتگری کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، الطاف حسین

جمعہ ستمبر 12:00

ایم کیو ایم کے خلاف فرقہ وارانہ قتل وغارتگری کا پروپیگنڈا کیا جارہا ..

لندن(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12ستمبر 2014ء) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ سرکاری ایجنسیوں، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند متعصب افسران یہ پروپیگنڈے کررہے ہیں کہ ایم کیوایم کے کچھ لوگ فرقہ وارانہ قتل وغارتگری میں ملوث ہیں، اگر کوئی بھی کارکن ان جرائم میں ملوث ہو تو اسے سرعام پھانسی دے دی جائے۔

جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباسی کمیلی سے ان کے بیٹے علی اکبر کمیلی کی شہادت پر فون پر تعزیت کرتے ہوئے الطاف حسین نے مسلح افواج اور آئی ایس آئی سمیت تمام عسکری اداروں کے سربراہان، سول اور ملٹری بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کے تمام اعلیٰ حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی پوری جدوجہد شیعہ سنی بھائی چارے اور اتحاد بین المسلمین کے لئے گزری ہے لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ سرکاری ایجنسیوں، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند متعصب افسران شیعہ اور سنی عوام میں یہ پروپیگنڈے کررہے ہیں کہ ایم کیوایم کے کچھ لوگ فرقہ وارانہ قتل وغارتگری میں ملوث ہیں، اگر ایم کیو ایم کا کوئی ایک کارکن یا رہنما ان جرائم میں ملوث ہو اور کسی بھی ایجنسی کے پاس اس کے ناقابل تردید ٹھوس ثبوت وشواہد موجود ہوں تو ایم کیو ایم کے اس فرد کو کسی بھی چوک پر سرعام پھانسی دے دی جائے اور اگر یہ جھوٹے الزامات ثابت نہ ہوں تو ایسے جھوٹے الزام لگانے والوں کو لٹکایا جائے۔

(جاری ہے)

الطاف حسین نے کہا کہ کل کے جہادی آج نہ صرف معصوم شہریوں بلکہ فوج، فضائیہ اور نیوی کے افسران اور جوانوں کو بھی مار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے صاحب ایمان افسران و جوان جہاں ایک جانب دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنی جانیں دے رہے ہیں تو دوسری جانب مسلح افواج کے اداروں میں موجود انتہا پسند عناصر ان اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، انہی عناصر کی جانب سے جی ایچ کیو، کامرہ بیس، مہران بیس، آئی ایس آئی اور مسلح افواج کے دیگر دفاتر اور حال ہی میں نیوی کے ڈاکیارڈ پر بھی حملہ کیا گیا جن میں بڑی تعداد میں افسران اور جوان شہید ہوئے۔

قائد ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کراچی میں فرقہ وارانہ قتل وغارتگری میں کونسی کالعدم تنظیموں کے عناصر ملوث ہیں لیکن یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ سرکاری ایجنسیوں، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند متعصب افسران شیعہ اور سنی عوام میں یہ انتہائی شرمناک اور جھوٹے پروپیگنڈے کر رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کے کچھ لوگ ان جرائم میں ملوث ہیں۔