انکم ٹیکس ترمیمی بل کے بعدجائیداد خریداری کا یہ سنہری موقع ہے، پریف

گزشتہ 15 دنوں میں صرف ڈی ایچ اے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سودوں میں 50سے 200فیصد تک اضافہ ہوا ہے،صدر شعبان الہٰی

منگل دسمبر 15:24

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 دسمبر2016ء) پاکستان رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فورم (پریف ) کے صدر شعبان الہٰی اور دیگر عہدیداران نے کہا ہے کہ انکم ٹیکس ترمیمی بل کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بتدریج بحال ہورہا ہے۔ گزشتہ 15 دنوں کے دوران خصوصا ڈی ایچ اے (DHA) کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سودوں میں 50سے 200فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے جو بہت خوش آئند بات ہے۔

ان خیالات کا اظہا رانہوں نے منگل کو پریف سیکریٹریٹ میں اراکین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں گفت گو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرجنرل سیکریٹری غضنفر محبوب، میجر ریٹائرڈ نوید باجوہ، جاوید رحمان، حسن بشارت، عمران الہٰی، اصغر علی بھٹو، عبدالواحد اور کرنل ریٹائرڈ محمد جاویدبھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

شعبان الہٰی نے کہا کہ انکم ٹیکس ترمیمی بل کی منظوری سے قبل رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کاروبار منجمند ہو گیا تھا، الحمداللہ اب سرمایہ کاروں کا رجحان مثبت ہے اور دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔

ہمارے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اور مقامی سرمایہ کار بھی خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ لوگ اپنا سرمایہ رہائشی اسکیموں ، کمرشل منصوبوں اور رئیل اسٹیٹ کے دیگر شعبوں میں لگانے کے خواہاں ہیں۔غضنفر محبوب نے بتایا کہ گزشتہ 15 دنوں کے دوران عمومی طور پر پاکستان بھر اور خصوصاڈی ایچ اے (DHA)کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ گئی ہے۔

جائیداد کے سودوں میں ڈی ایچ اے کراچی اور ڈی ایچ اے سٹی میں 50سے 200فیصد تک اضافہ دیکھا جارہا ہے۔عمران الہٰی نے کہا کہ اس مثبت پیش رفت کی ایک بڑی وجہ ڈی ایچ اے انتظامیہ کی جانب سے ترقیاتی کاموں میں تیزی لانابھی ہے۔ماضی میں بھی عام طور پر زیادہ تر سرمایہ کاروں کی دلچسپی ڈی ایچ اے میں رہی ہے کیونکہ وہ اپنا سرمایہ یہاں محفوظ اور منافع بخش سمجھتے ہیں۔

میجر ریٹائرڈ نوید باجوہ نے کہا کہ جیسے جیسے لوگوں میں ان نئی ترامیم کی مناسب آگاہی آئی جائے گی ویسے ہی ٹرانزیکشنز میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جائے گا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے حسن بشارت نے بتایا کہ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے شعبے میں ٹرانزیکشنز میں بہتری کی ایک اوربڑی وجہ آرگنائزیشن آف اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ( OECD)کے حالیہ اعلانات ہیں جس کے تحت بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والوں سے ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات طلب کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر ایسے لوگوں کے لیے سرمایہ کاری کی ایک محفوظ جگہ ہے۔ اس اجلاس کے شرکاء کی بھی متفقہ رائے ہے کہ اس وقت یہ ایک سنہری موقع ہے کہ سرمایہ کار اس اسکیم کے تحت اپنے غیر دستاویزی پیسے کو دستاویزی شکل میں لے آئیں۔ یہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں خریداری کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اراکین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اسی طرح اس شعبے پر توجہ دیتی رہی تو اگلے کچھ سالوں میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور اس سے منسلک 50سے زائدشعبوں میں بھی خاصی سرگرمیاں بڑھیں گی۔

متعلقہ عنوان :