عازمین حج کو لوٹنے کا معاملہ، تسنیم فاطمہ مقامی عدالت سے سزا ملنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئی

پیر اپریل 21:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2017ء) خدا کے مہمانوں کو حج کے موقع پر لوٹنے کا معاملہ خود کو وزارت مذہبی امور کی ملازمہ ظاہر کرنے والی خاتون تسنیم فاطمہ مقامی عدالت سے سزا ملنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئی کیس کی سماعت اسلام آ باد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی ملزمہ تسنیم فاطمہ کی جانب سے ایڈوکیٹ عبدالمنان بھٹی عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ مقامی عدالت کی جانب سے میری موکلہ کو جو سزا سنائی گئی وہ غیر قانونی ہے مقامی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ملزمہ کے وکیل کا مذید کہنا تھا کہ میری موکلہ کو سنے بغیر فیصلہ سنایا گیااس دوران متاثرہ شخص بھی عدالت میں بول پڑیکہ چوتھے حج کا اعلان ہو چکا لیکن ہمیں رقم ابھی تک واپس نہیں ملی۔

(جاری ہے)

عدالت نے متاثرہ شخص کو وکیل کرنے کی ہدایات کرتے ہوئے کیس کی سماعت 25اپریل تک ملتوی کردی واضع رہے تسنیم فاطمہ پر چھیانوے لاکھ چوالیس ہزار روپے عازمین حج سے بٹورنے پرمقامی عدالت نے بارہ سال قید اور دو لاکھ جرمانے کی سزا سنا رکھی ہے۔

متعلقہ عنوان :