ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پر تحصیل ممبران نے احتجاج کرتے ہوئے ٹی او آر کے دفتر کو تالہ لگا دیا

منگل فروری 23:30

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پر تحصیل کونسل کے ممبران نے ٹی ایم اے ایکسین کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ٹی او آر کے دفتر کو تالہ لگا دیا۔ تحصیل کونسل ممبران نے تحصیل ناظم و نائب ناظم کے دفاتر کو بھی تالے لگانے کی دھمکی دیدی، کیا، 36 کروڑ روپے کی بیوٹیفکیشن فنڈ میں مبینہ کرپشن کے خلاف بلدیاتی نمائندگان نے صوبہ بھر میں مظاہروں کا اعلان کر دیا، ضلع بدری تک معاملات نہ چلانے کی دھمکی دیتے ہوئے دو دن کی ڈیڈ لائن دیدی۔

تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ اور کمیشن کے سنگین الزامات پر تحصیل ممبران میدان میں آ گئے، ایکسین ٹی ایم اے کے دفتر کو تالے لگا کر جمعرات تک ضلع بدری کیلئے صوبائی حکومت کو ڈیڈ لائن دیدی۔

(جاری ہے)

اس ضمن میں اراکین تحصیل کونسل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹی او آئی شیخ امجد اراکین کی اے ڈی پی خرچ کرنے میں رکاوٹیںڈال رہے ہیں، ایسے کمیشن خور افسر کو فوراً ضلع بدر کیا جائے ورگرنہ ممبران تحصیل کونسل احتجاج میں انتہائی اقدام سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تحصیل کونسل کے گذشتہ اجلاس میں ممبران نے ٹی او آئی کے خلاف اپنا فیصلہ صادر کرتے ہوئے نہ صرف کونسل اجلاس سے بائیکاٹ کیا بلکہ واضح کر دیا تھا کہ مذکورہ آفیسر کی ضلع میں موجودگی تک تحصیل کونسل کا کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا جائے گا جس سے صوبائی حکومت کو بھی باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا لیکن سیاسی آشیرباد سے ممبران تحصیل کے مطالبہ پر کوئی عمل نہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ افسر کی کسی بھی عوامی نمائندے نے پشت پناہی کی تو اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد پر مذکورہ آفیسر سے دو فیصد حصہ وصولی کا الزام عائد بھی کیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو دو دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے واضح کیا کہ جمعرات تک اگر ٹی او آئی کو ضلع بدر نہ کیا گیا تو ہم ایبٹ آباد، پشاور اور اسلام آباد میں بھی میدان سجائیں گے۔ انہوں نے تحصیل ناظم و نائب ناظم کے دفاتر کو بھی تالے لگانے کی دھمکی دیتے ہوئے واضح کیا کہ تحصیل قیادت ممبران کے تقدس کی بحالی اور مذکورہ افسر کی ضلع بدری میں کردار ادا کرے ورنہ ممبران کے احتجاج سے وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

متعلقہ عنوان :