سابق وزیر اعظم نوازشریف، مریم نوازسمیت 16 حکومتی شخصیات کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد

پیمرا 15 روزمیں عدلیہ مخالف تقاریرکاسختی سے نوٹس لے ،عدالت توہین آمیزمواد کی خودمانیٹرنگ کرے گی‘ لاہور ہائیکورٹ

پیر اپریل 15:50

سابق وزیر اعظم نوازشریف، مریم نوازسمیت 16 حکومتی شخصیات کی عدلیہ مخالف ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) لاہورہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف اور مریم نوازسمیت 16 حکومتی شخصیات کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کردی۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بنچ نے عدلیہ مخالف تقاریر کیس کی سماعت کی۔عدالت عالیہ میں سابق وزیراعظم نوازشریف،، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر 16 لیگی رہنمائوں کے خلاف توہین عدالت کی 2 درجن سے زائد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

درخواستوں میں موقف اپنایا گیا تھا کہ مذکورہ شخصیات پانامہ کیس سمیت دیگر کیسز میں عدلیہ مخالف تقاریر کررہی ہیں اور براہ راست ججوں کو نشانہ بنارہے ہیں، یہ تقاریر براہِ راست نشر کی جارہی ہے جو توہین عدالت ہے۔

درخواست گزاروں نے ان تقاریر کی بنیاد پر نوازشریف سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی تھی جبکہ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ پیمرا کو کوڈ آف کنڈکٹ یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔

پیمرا کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرتقریرکے دوران توہین عدالت ہوئی ہے تواس پرتوہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہئے ۔۔نوازشریف کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پیمرااپنے کوڈآف کنڈیکٹ پر عمل درآمد کا پابند ہے جبکہ سپریم کورٹ نے بھی تقاریرپر کوئی نوٹس نہیں لیا۔اس پر جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تنقید کی حد کیا ہے۔

ہائیکورٹ کے فل بنچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نوازشریف،، مریم نواز،شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعدرفیق، دانیال عزیز، طلال چودھری سمیت 16 شخصیات کی عدلیہ مخالف تقاریر نشرکرنے پر پابندی عائد کردی۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پیمرا15 روز میں فیصلہ کرے اس دوران نوازشریف،،مریم نوازاوردیگرافرادکی عدلیہ مخالف تقاریرنشرنہ کی جائیں۔

ہائیکورٹ نے عدالتی دائرہ اختیارکیخلاف نوازشریف کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے رجسٹرارآفس کااعتراض برقراررکھتے ہوئے کہا کہ پیمرا 15 روزمیں عدلیہ مخالف تقاریرکاسختی سے نوٹس لے اورعدالت توہین آمیزمواد کی خودمانیٹرنگ کرے گی۔واضح رہے کہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے تشکیل دیا جانے والا فل بینچ تین مرتبہ تحلیل ہوا تھا جس میں ججز نے ذاتی وجوہات کی بناء پر درخواستوں پر سماعت سے معذرت کی تھی۔

Your Thoughts and Comments