کرا چی، واٹر کمیشن کا ایم ڈی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ خالد محمود شیخ کو ایک گھنٹے میں کراچی میں پانی کا نظام ٹھیک کرنے کا حکم

چینی کمپنی کی واجب الادارقم سے طے شدہ تعداد سے کم ملازمین رکھنے پر رقم کٹوتی، ڈی ایم سیز کے غیرحاضر ملازمین کی تنخواہیں روکنے کا حکم غیر حاضرملازمین کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی بھی ہدایت

پیر اپریل 19:57

کرا چی، واٹر کمیشن کا ایم ڈی  واٹر اینڈ سیوریج بورڈ خالد محمود شیخ کو ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) سندھ ہائیکورٹ میں سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کی گئی واٹر کمیشن نے مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ خالد محمود شیخ کو ایک گھنٹے میں کراچی میں پانی کا نظام ٹھیک کرنے کا حکم جاری کردیا،کمیشن نے چینی کمپنی کی واجب الادارقم سے طے شدہ تعداد سے کم ملازمین رکھنے پر رقم کٹوتی کاحکم دیا،کمیشن نے ڈی ایم سیز کے غیرحاضر ملازمین کی تنخواہیں روکنے کا حکم دیا اور غیر حاضرملازمین کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی بھی ہدایت کی۔

واٹر کمیشن کی سماعت جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں کی گئی۔سماعت کے آغاز پر کمیشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ خالد محمود شیخ کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہارکرتے انہیں فوری طلب کیا تھا۔

کچرا اٹھانے والی چینی کمپنی کی ادائیگی روکنے کے معاملے پر سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر طحہٰ فاروقی نے کمیشن کو بتایا کہ چینی کمپنی کا جنوری اور فروری کا بل بھی واجب الادا ہے جس پر کمیشن نے استفسار کیا کہ ہم نے سابقہ بل روکنے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ صرف آئندہ کیلئے یہ حکم تھا۔

انہوں نے ایم ڈی سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کو حکم جاری کیا کہ جو متنازعہ رقم ہے وہ تصدیق کے بعد ادا کریں۔کمیشن نے چینی کمپنی کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے ایک سال سے ایک ہزار ملازمین کے بغیر کام چلایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ سے ان ملازمین کی تنخواہ کی رقم منہا کی جائیگی کیونکہ معاہدے کے مطابق آپ کو ان ملازمین کو تنخواہیں دینی تھیں اور یہ تباہی اس لیے ہورہی ہے کہ آپ کے پاس ملازمین کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں بیٹھ کر آپ چین سے نئی چیزیں لارہے ہیں جبکہ پہلے آپ کو اپنے ملازمین مکمل کرنے چاہیئے۔کمیشن نے ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سیز) کے غیر حاضر ملازمین کی تنخواہیں روکنے کا حکم جاری کیا اور ایسے ملازمین کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی بھی ہدایت کی۔کمیشن نے چینی کمپنی سے واجب الادا رقم میں سے طے شدہ تعداد سے کم ملازمین رکھنے پر بھی کٹوتی کرنے کا حکم جاری کیا۔

بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ میں ہونے والی واٹر کمیشن کی سماعت کے دوران ایم ڈی واٹر بورڈ پیش ہوئے۔ایم ڈی واٹر بورڈ نے کمیشن کو بتایا کہ پانی کی قلت کی وجہ سے کچھ مسائل ہیں جبکہ کے الیکٹرک کی جانب سے بھی بجلی کم مل رہی ہے، ہمیں لوگوں کی پریشانی کا احساس ہے۔جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے استفسار کیا کہ ’آپ کو گالیاں پڑ رہی ہیں کچھ تو خیال کریں، کہیں پانی آرہا ہے، کہیں نہیں آرہا جس پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے کمیشن کو کہا کہ جہاں پانی آرہا ہے انہیں تو شکر ادا کرنا چاہیے‘۔

کمیشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ’آپ کیسی بات کررہے ہیں آپ احسان کررہے ہیں پانی دے کر۔ پانی عوام کا حق ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک 15، 20 وال مین اندر نہیں جایئں گے معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا، یہاں طاقتور کو پانی مل رہا ہے مگر غریبوں کو نہیں مل رہا۔سربراہ واٹرکمیشن نے ایم ڈی واٹربورڈ سے کہا کہ کراچی میں گٹرابل رہے ہیں، سیوریج کا پانی صاف پانی میں مل رہا ہے، مجھے بتائیں کہ کراچی میں کتنے والو مین ہیں۔

ایم ڈی واٹربورڈ نے جواب دیا کہ شہر میں 700 والو مین کام کررہے ہیں۔ کمیشن نے استفسار کیا کہ کبھی ایک بندے کے خلاف بھی کارروائی ہوئی، کسی ایک والو مین کو ٹرانسفر بھی نہیں کیا، مجھے لوگ اللہ کا نام لے کر دھمکیاں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کام نہ کرسکے تو اللہ کو کیا جواب دو گے، میں جاتے جاتے کم ازکم 200 لوگوں کو تو فارغ کرکے جاؤں گا۔ایم ڈی واٹربورڈ نے جواب دیا کہ میرے پاس بھی واٹس ایپ پر روزانہ کی بنیاد پر 500 شکایات آتی ہیں اور لوگ مجھے بھی دھمکیاں دیتے ہیں۔

جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ایم ڈی صاحب آپ اپنے عملے کو ہلائیں، جن علاقوں میں پانی نہیں وہاں پانی آپ نے مفت پہنچانا ہے، اور مجھے رپورٹ پیش کرنی ہے۔جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو حکم جاری کیا کہ آج ہی کراچی میں پانی کی تقسیم کا مسئلہ ٹھیک کریں ورنہ آدھی رات کو دورہ کروں گا اور آپ کو لے کر ہائڈرنٹس پر جائوں گا اور وہیں سوالات کروں گا۔

کمیشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت جاری کی کہ ایک گھنٹہ میں نظام ٹھیک کریں۔جسٹس (ر) امیر مسلم ہانی نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ جہاں جہاں پانی نہیں پہنچتا وہاں قانون کے مطابق آپ لوگوں کو ٹینکر کی ذریعے پانی پہچانا ہے۔سماعت کے دوران میئر کراچی وسیم اختر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔کمیشن نے میئر کراچی سے استفسار کیا کہ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کے حوالے سے آپ کی دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے، آپ نے وعدہ کیا تھا فاطمہ جناح روڈ بن جائیگا تاہم وہ اب تک نہیں بنا ہے۔

میئر کراچی نے کمیشن کو بتایا کہ فاطمہ جناح روڈ زیر تعمیر ہے، سیوریج کی لائنوں کا مسلہ تھا اس لیے تاخیر ہوئی، نئے پائپ ڈال رہے ہیں تاکہ مسلہ مستقل حل ہوجائیں۔کمیشن نے میئر کراچی سے روڈ کی تکمیل کے لیے ٹائم فریم طلب کرلیا۔بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاون میں پانی کے معاملے پر شہری کی شکایات بھی سنی گئیں۔شہری نے بتایا کہ واٹر بورڈ نے بلدیہ ٹاؤن میں تمام تر وال مین پرائیوٹ رکھے ہوئے ہیں اورجو ایک سال میں صرف 12 گھنٹے پانی دیتے ہیں۔

کمیشن نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو شہریوں کے مسائل سننے کی ہدایات جاری کیں۔کمیشن میں واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) کے ایڈیشنل ایم ڈی بھی پیش ہوئے۔کمیشن سربراہ امیر مسلم ہانی نے ان سے استفسار کیا کہ آپ نے نا اہل لوگو کو ٹھیکا دیا ہے مجھے ٹھیکیدار کا پروفیشنل بیک گرائونڈ بتائیں ہے اور بتائیں کہ کس چیز کی مجبوری تھی جو آپ نے اس کو ٹھیکا دیا۔

ایڈیشنل ایم ڈی واسا نے کمیشن کو بتایا کہ اگر ہم وہ ٹینڈر اس کو نہیں دیتے تو پھر دوبارہ ٹینڈر کرنا پڑتا۔کمیشن نے ہالہ ناکہ حیدرآباد پر جاری تمزیل کنسٹریکشن کمپنی کا کانٹریکٹ منسوخ کرنے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی بیک گرائونڈ نہیں ہے۔واٹر کمیشن کی کارروائی 17 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے گجر نالہ اور پچر نالہ کے کنسلٹنٹ کی تعیناتی پر چیف سیکریٹری سے منگل کو رپورٹ طلب کرلی

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments