خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی پہلے ہی دہشت گردی اور انتہاء پسندی سے متاثر ہے ،زاہدشنواری

پیر اپریل 20:40

خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی پہلے ہی دہشت گردی اور انتہاء پسندی سے ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہداللہ شنواری نے محکمہ سوئی نادرن گیس پائپ لمیٹڈ کی جانب سے خیبر پختونخوا کی صنعتوں اور کمرشل اداروں سے مارچ کے بلوں میں ری گیسی فائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل (RLNG) کی وصولی شروع کرنے پر شدید تشویش اور غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ گیس میں خود کفیل اس صوبہ کے کاروباری طبقے پر RLNG کی بھاری قیمتوں کا بوجھ غیر آئینی اور غیر منصفانہ ہونے سمیت پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 158 کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔

ایک بیان میں زاہداللہ شنواری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی پہلے ہی دہشت گردی اور انتہاء پسندی سے متاثر ہے اور اب اس صوبہ کی بزنس کمیونٹی پر آر ایل این جی کی بھاری قیمتوں کا بوجھ ڈال کر اس صوبہ کی معیشت پر قاتلانہ حملہ کیاگیا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ مختلف حکومتی پالیسیوں میں پائی جانیوالی خامیوں اور صنعت و تجارت سے متعلقہ اداروں کی عدم دلچسپی اور غیر بزنس فرینڈلی رویوں کی وجہ سے پہلے ہی صنعتیں زبوں حالی کاشکار ہیں اور اب گیس میں خود کفیل صوبہ کی صنعتوں اور کاروباری اداروں پر برآمد شدہ مہنگی RLNG کی بھاری قیمتوں کا بوجھ ڈال کر اس صوبے کے عوام کو مزید معاشی پستی کا شکار بنانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

زاہداللہ شنواری نے کہا کہ سرحد چیمبر کے زیر اہتمام29 مارچ کو ہونیوالی آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں نے صوبائی حقوق کے تحفظ کا عہدکیا ہے اور سرحد چیمبر اب RLNG کے معاملے پر نہ صرف تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرے گا بلکہ اعلیٰ عدالتوں سے بھی رجوع کیا جائے گا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حقوق پر کسی قسم کی کوئی سودا بازی نہیں ہونے دی جائے گی اور صوبہ خیبر پختونخوا کی صنعتوں اور کاروبار کے ساتھ یہ گھنائونا کھیل نہیں کھیلنے دیا جائے گا ۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت خیبر پختونخو امیں پیدا ہونیوالی گیس پر پہلاحق اس صوبہ کا ہے اور 158 کے تحت گیس میں سرپلس صوبوں کی صنعتوں اور کاروباری طبقے سے RLNG کی وصولی کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے ۔