انسانی حقوق تنظیم نے میانمار میں ایک خاندان کی واپسی پر تنقید کرتے ہوئے مشکوک قرار دیدیا

میانمار حکومت کا کہنا تھا کہ 70لاکھ روہنگیا مہاجرین کے ایک خاندان کو ملک میں واپس بلا لیا گیا ہے

پیر اپریل 22:03

ینگون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) میانمار کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے رخائن میں ظالمانہ فوجی کارروائی کا شکار ہونے والے 70 لاکھ روہنگیا مہاجرین کے ایک خاندان کو ملک میں واپس بلا لیا ہے۔تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے میانمار حکومت کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اسے شہرت حاصل کرنے کے لیے اسٹنٹ قرار دیا جس میں واپس آنے والے افراد کی سیکیورٹی کو نظر انداز کیا گیا۔

گذشتہ سال اگست میں میانمار کی شمالی ریاست رخائن میں فوج کے بے رحم کریک ڈاؤن کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ گزین کیمپوں کی جانب ہجرت کی تھی۔اقوام متحدہ نے اس آپریشن کو مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا، لیکن میانمار نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اس کے فوجی دستوں نے روہنگیا میں عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

(جاری ہے)

میانمار حکومت کے حالیہ بیان میں کہا گیا کہ روہنگیا مہاجرین کے ایک خاندان کو نئے تعمیر کیے گئے استقبالیہ مراکز میں ٹھہرانے کے لیے بلالیا گیا ہے۔۔میانمار کی انفارمیشن کمیٹی نے اپنے فیس بک پیچ پر جاری بیان میں کہا کہ ’5 افراد پر مشتمل ایک خاندان کی رخائن کے تانگ پیولیتوی علاقے میں قائم مہاجرین کیمپ میں آج صبح واپس ہوئی۔‘ بنگلہ دیش کے مہاجرین کمشنر محمد ابوالکلام نے بتایا کہ میانمار واپس لوٹنے والا روہنگیا خاندان دونوں ممالک کے اس سرحدی علاقے میں موجود کیمپ میں قیام پذیر تھا جو کسی بھی ملک کی زمین نہیں، اس کا مطلب ڈھاکا کا اس خاندان کی واپسی میں کوئی رسمی کردار نہیں۔

اگست سے ہزاروں روہنگیا خاندان سرحد کے قریب قائم کیمپوں میں آباد ہیں، جبکہ دیگر خاندانوں کو بنگلہ دیش کے ضلع کوکس بازار کے وسیع و عریض علاقے میں موجود کیمپوں میں پناہ دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’صرف ایک خاندان کی واپسی کوئی قابل ذکر عمل نہیں، ہم نہیں جانتے کہ پناہ گزینوں کی واپسی کا سلسلہ کب شروع ہوگا، جبکہ میانمار کی جانب سے کوئی قابل بھروسہ امید دکھائی نہیں دے رہی کہ وہ ان تمام افراد کو واپس بلائے گا۔

‘دوسری جانب میانمار کی حکومت کا کہنا ہے کہ امیگریشن حکام نے واپس لوٹنے والے خاندان کو ’نیشنل ویریفکیشن‘ کارڈ فراہم کیے۔نیشنل ویریفکیشن کارڈز ایک طرح کے شناختی کارڈ ہیں جو کہ شہریت کے مکمل حقوق کی ضمانت نہیں، جبکہ روہنگیا کے اکثر رہنما ان کارڈز کو مسترد کرچکے ہیں۔۔

متعلقہ عنوان :