شریف خاندان کی مشکلات میں اضافہ :نیب نے لندن سے ایون فیلڈ پراپرٹیز کا اہم رکارڈ حاصل کر لیا

برطانیہ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ایون فیلڈ پراپرٹیز کی ملکیت بے نامی کمپنیوں نیلسن اینڈ نیسکول کے نام 1993 سے 1995 کے درمیان منتقل ہوئی-نیب ذرائع کا انکشاف

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل اپریل 11:33

شریف خاندان کی مشکلات میں اضافہ :نیب نے لندن سے ایون فیلڈ پراپرٹیز کا ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 اپریل۔2018ء) نیب نے لندن سے ایون فیلڈ پراپرٹیز کا اہم ریکارڈ حاصل کر لیا۔نیب ذرائع کے مطابق شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کرنے والے نیب کے متعلقہ ونگ کو ایون فیلڈ پراپرٹیز کے حوالے سے انتہائی اہم دستاویزات حاصل ہوئی ہیں۔ جن میں برطانوی لینڈ رجسٹری ریکارڈ میں جائیدادوں کی ملکیت اور خریدو فروخت کی مکمل تفصیل موجود ہے۔

نیب کو حاصل دستاویزات کے مطابق ایون فیلڈ پراپرٹیز کی ملکیت بے نامی کمپنیوں نیلسن اینڈ نیسکول کے نام 1993 سے 1995 کے درمیان منتقل ہوئی ،دستاویزات شریف خاندان کےا س دعوے کی نفی کرتی ہیں کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کی منتقلی 2006۔2005 میں ہوئی۔نیب ذرائع کا دعوی ہے کہ 1993 سے 1995 کے دوران میاں نواز شریف کے بچوں کے کوئی ذرائع آمدن نہیں تھے، اور ان جائیدادوں کے اصل مالک میاں نواز شریف ہی ہیں۔

(جاری ہے)

نیب کو حاصل ہونےو الے موزیک فانسیکا کے رکارڈ کے مطابق مریم نواز ہی ان جائیدادوں کی بینیفیشل اونر ہیں۔برطانوی لینڈ رجسٹری رکارڈ کو احتساب عدالت میں جھٹلانا شریف خاندان اور ان کے وکلا کےلیے ایک کڑا امتحان ہو گا۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔نیب کی جانب سے ان تینوں ریفرنسز کے ضمنی ریفرنسز بھی احتساب عدالت میں دائر کیے جاچکے ہیں۔شریف خاندان ان حقائق کو جھٹلا چکا ہے اور احتساب عدالت میں ان کے وکیل نے جرح کے دوران ثابت کیا کہ نیب کی دستاویزات قانون کے مطابق درست نہیں اور ذریعہ دستاویزات کی ثبوت کے طور پر کوئی حیثیت نہیں۔

متعلقہ عنوان :