متنازعہ علاقوںمیں شدت پسند گروپ داعش ایک بار پھر فعال، کریم سنجاری وزیر برائے پیشمرگہ فوج

منگل اپریل 18:59

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) عراقی سرکاری فوج نے خبردار کیا ہے کہ متنازع علاقوںمیں شدت پسند گروپ داعش ایک بار پھر فعال ہو رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کے صوبہ کردستان کی سرکاری فوج پیشمرگہ نے خبردار کیا ہے کہ کردستان اور بغداد کے درمیان متنازع علاقوں پر شدت پسند گروپ داعش ایک بار پھر فعال ہو رہا ہے۔امریکی وفد سے ملاقات میں پیشمرگہ فورس کے وزیر کریم سنجاری نے کہا کہ اربیل اور بغداد کے درمیان متنازع سمجھے جانے والے علاقوں میں داعش ایک بار پھر خود کو منظم کررہی ہے۔

حالیہ دنوں میں داعش کے جنگجوں کی ان علاقوں میں غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔خیال رہے کہ عراق کے صوبہ کردستان اور بغداد کے درمیان بعض علاقوں کو متنازع خیال کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

متنازع علاقوں میں وہ مقامات شامل ہیں جنہیں عراقی فوج نے ستمبر2017 کے دوران کردستان کی علیحدگی کے اعلان کے بعد کارروائی کر کے اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ کردستان ان علاقوں پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے۔

کریم سنجاری کا اشارہ بھی انہی علاقوں کی جانب تھا۔کرد ذرائع ابلاغ کے مطابق سوموار کے روز پیشمرگہ فورس کے اعلی حکام کا ایک اجلاس بھی ہوا جس میں بعض علاقوں میں داعش کی بڑھتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔کردستان کے بعض علاقوں جن میں تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک کا شہر بھی شامل ہے تین سال تک داعش کے قبضے میں رہا ہے۔عراق فوج کے میڈیا سیل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کی شام کرکوک میں بارود سے بھری کار سے کیے گئے دھماکے میں تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔

متعلقہ عنوان :