بعض سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے مسلسل غلط بیانی اور مبالغہ آرائی کے بیانات جاری کررہے ہیں،رہنماء پشتونخواملی عوامی پارٹی

منگل اپریل 22:54

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اور اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال‘پارٹی کے مرکزی سیکرٹری رکن صوبائی اسمبلی عبید اللہ جان بابت ‘ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری رکن صوبائی اسمبلی سردار مصطفی خان ترین ، پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے بیان میں کہا ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے مسلسل غلط بیانی اور مبالغہ آرائی کے بیانات جاری کررہے ہیں نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں جمعیت کے چار اراکین کے دستخط تھے اور حالیہ سینٹ کے انتخابات میں آٹھ میں سے تین ارکان اسمبلی کے ووٹ جمعیت کے امیدوار کو نہیں پڑے البتہ کرپشن کے جاری صورتحال کے نذر ہوگئے مذہب کے نام پر بننے والی پارٹی اسلامی نظام لانے کی بجائے نظام کرپشن کا شکار ہوگئے اس طرح اپنے امیدوار کو ووٹ نہ دینے والے کا بیان بازی کا اخلاقی جواز بھی ختم ہوجاتا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ قوم دوست اور اپنے وطن اور عوام سے محبت کرنیوالے کرپشن پر نہیں جمہوری نظام ، حقیقی فیڈریشن ،قوموں کی برابری ، جمہور کی حکمرانی اور غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کے سزا وار ہوئے ہیں جوکہ جمہوریت اور جمہوری نظام کیلئے قبول کرنا پڑتا ہے ۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا ہے کہ وطن دوست پارٹیاں ملک میں قوموں کی برابری اور خصوصاً صوبے میں برابری ملکی اور صوبائی سطح پر مسائل کا حل جمہوریت اور جمہوری سسٹم سے حل کرنے کے داعی ہیں جبکہ ملک کے اندر فرقہ وارانہ دہشتگردی عروج پر ہے اور بعض مذہبی جماعتیں اس کے فروغ میں مصروف ہیں اور صوبے کے عوام سوال کرنا چاہتے ہیں کہ فرقہ واریت کے نام پر عوام کی امن برباد کرنے والے مجرم نہیںتو اور کیا ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے تین ستون کو ایک دوسرے کے معاملات اور اختیارات میں مداخلت سے اجتناب ضروری امر ہے اور تینوں اداروں پر مقننہ کوبرتری حاصل ہے۔ اوراس برتری کو تسلیم کرنا اور مسلمہ بنانا سب کی ذمہ داری ہے ۔ سیاسی پارٹیوں کا فرض اور ذمہ داری ہے کہ وہ افراد واشخاص کے خلاف سیاسی جمہوری سسٹم کی بساط لپیٹے دانستہ ار غیر دانستہ عمل کا حصہ نہ بنے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جمہوری نظام میں عوام کے ووٹ کو جو تقدس حاصل ہے اس کا دفاع تمام جمہوری قوتوں کی ذمہ داری ، اندرونی اور بیرونی صورتحال کے مد نظر تمام سیاسی جمہوری قوتوں اور ملکی اداروں کو نہایت سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا غیر سنجیدگی اور کشمکش کی صورتحال ملک کو بحرانوں سے دوچار کریگی۔