فرانسیسی شخص کی ایک اورکامیاب سرجری ،

تیسرا چہرہ لگا دیا گیا میں 43 سال کا ہوں اور عطیہ کرنے والا 22 کا تھا تو میں اب پھر سے 22 کا ہو گیا ہوں،جیروم کی گفتگو

بدھ اپریل 12:44

فرانسیسی شخص کی ایک اورکامیاب سرجری ،
پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء)دو مرتبہ چہرے کی پیوندکاری کروانے والے دنیا کے پہلے شخص نے اپنے تازہ آپریشن کے تین ماہ بعد کہا ہے کہ وہ اب بہتر محسوس کر رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق جیروم ہیمون نے پیوندکاری کے ذریعے لگائے جانے والا اپنا پہلا چہرہ گذشتہ سال اس وقت ہٹوا دیا تھا جب نزلہ زکام کے لیے دی جانے والی ناسازگار اینٹی بائیوٹک کے بعد ان کے جسم نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔

43 سالہ جیروم ہیمون پیرس میں دو ماہ تک ہسپتال میں اس لیے رہے تاکہ انھیں کوئی ایسا عطیہ کرنے والا (ڈونر) مل جائے جو ان کے لیے موافق ہو۔انہوں نے کہاکہ میں نے پہلا (چہرہ) فوراً ہی قبول کر لیا تھا۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہے۔جیروم کو نیوروفائبرومیٹوسز ٹائپ ون لاحق ہے جس کی وجہ سے ان کے چہرے پر رسولیاں بن گئیں۔

(جاری ہے)

ان کا پہلا ٹرانسپلانٹ 2010 میں کیا گیا تھا جو کامیاب رہا تھا، لیکن 2015 میں انھیں نزلہ زکام ہوا اور اس کے لیے انھیں اینٹی بائیوٹک دی گئیں جو ان کے لیے سازگار ثابت نہ ہوئیں۔

جسم کے قبول نہ کرنے کی ابتدائی علامات 2016 اور گذشتہ نومبر میں سامنے آئیں جب ان کا چہرہ نیکراسس میں مبتلا ہو گیا اور اسے آخرکار ہٹانا ہی پڑا۔جیروم ہیمون پیرس کے جارجز پومپیڈو ہسپتال میں ایک کمرے میں بنا چہرے کے رہے۔ وہ نہ تو دیکھ سکتے تھے، نہ بول پاتے تھے اور نہ ہی سن سکتے تھے۔جنوری میں انھیں چہرہ عطیہ کرنے والا شخص مل گیا جس کے بعد دوسری مرتبہ پیوندکاری کی گئی۔

اس سے قبل کہ ان کے چہرے کو پھر سے قبول نہ کیا جائے جیروم ہیمون جنھیں فرانسیسی میڈیا نے دا مین ود تھری فیسسز کا نام دیا ہے، نے ٹرانسپلانٹ سے قبل خصوصی علاج کے ذریعے اپنے خون کو صاف کرایا۔ان کا نیا چہرہ نرم ہے اور حرکت نہیں کرتا، ان کی جلد، کھوپڑی اور خدو خال ابھی سیدھے کرنا باقی ہیں لیکن وہ اپنی صحت یابی کے لیے مثبت ہیں۔جیروم نے فرانسیسی ٹی وی کو بتایاکہ میں 43 سال کا ہوں اور عطیہ کرنے والا 22 کا تھا تو میں اب پھر سے 22 کا ہو گیا ہوں۔ایک گھنٹہ تک جاری رہنے والے اس آپریشن کی سربراہی لورینٹ لینٹیئری نے کی جو ہاتھوں اور چہرے کی پیوندکاری کے ماہر ہیں اور انھوں نے ہی آٹھ سال قبل جیروم کی ابتدائی سرجری کی تھی۔