سینٹرل جیل کے حولالدار سمیت چار شہریوں کی گمشدگی،

عزیر بلوچ سے دوبارہ تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم

بدھ اپریل 17:03

سینٹرل جیل کے حولالدار سمیت چار شہریوں کی گمشدگی،
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے سینٹرل جیل کے حولالدار سمیت چار شہریوں کی گمشدگی سے متعلق ڈی آئی جی ساوتھ کو عزیر بلوچ اور دیگر متعلقہ افراد سے دوبارہ تحقیقات کرکے 26 مارچ کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں دو رکنی بینچ کے روبرو سینٹرل جیل کے حولالدار سمیت چار شہریوں کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے ڈی آئی جی کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ڈی آئی جی ساوتھ عزیر بلوچ اور دیگر متعلقہ افراد سے دوبارہ تحقیقات کرکے 26 مارچ کو رپورٹ پیش کریں۔ سرکاری وکیل کے مطابق گینگ وار کے عزیر بلوچ نے چاروں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا، پولیس رپورٹ جمع کراچکی ہے۔ پولیس کے مطابق کوشش کے باجود مقتولین کی باڈی کا سراغ نہیں مل سکا۔

(جاری ہے)

لاپتہ شہری کے بھائی نے بتایا 8 سال سے چاروں افراد لاپتہ ہیں، پولیس چاہے تو تحقیقات کرسکتی ہے۔ یقین ہے چاروں کو قتل نہیں کیا گیا، اگر قتل ہوچکے ہیں باڈیز کہاں ہیں۔ پولیس کے مطابق لیاری گینسٹر عزیر بلوچ کا اعترافی بیان اور جے آئی ٹی عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے۔ عزیر بلوچ نے حوالدار امین عرف لالہ ، غازی خان ، شیر افضل خان اور شیراز کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ عزیر بلوچ نے 2011 میں محمد امین سے بدلہ لینے کیلئے قتل کیا۔ مقتولین کی لاشیں تیزاب میں پھینکی گئیں۔

متعلقہ عنوان :