تمام اقسام کے پولیسٹر فلامنٹ یارن پر درآمدی ڈیوٹی 11فیصد سے کم کرکے 7فیصد کی جائے، خورشید شیخ

لباس کو لگژی آٹم شمار نہ کیاجائے، اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی معطل ،ودہولڈنگ ٹیکس یکساں کیا جائے،اسلم موتن،خالداقبال گڈر

بدھ اپریل 17:17

تمام اقسام کے پولیسٹر فلامنٹ یارن پر درآمدی ڈیوٹی 11فیصد سے کم کرکے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء)پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن ( پائما) کے کے مرکزی چیئرمین خورشید شیخ، زونل چیئرمین اسلم موتن اور وائس چیئرمین خالد اقبال گڈر نے حکومت سے کمرشل امپورٹرز اور مینوفیکچررز کو برابری کی بنیادپر کاروبار کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہوئے ٹیکسوں کی یکساں شرح ، پولیسٹر یارن پر ڈیوٹی کی شرح 7فیصد کرنے اوراینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی معطل کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

پائما کے کے مرکزی چیئرمین خورشید شیخ نے حکومت سے اپیل میں کہاکہ لباس ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے لہٰذا فیبرک کو کسی صورت بھی لگژری آئٹم کے طور پر شمار نہیں کیاجانا چاہیے۔ نیشنل ٹیرف کمیشن نے فیبرک پر حد سے زیادہ اینٹی ذمپنگ ڈیوٹی عائد کررکھی ہے جس کی وجہ سے فیبرک کی لاگت میں بے انتہا اضافہ کردیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام اقسام کے پولیسٹر فلامنٹ یارن پر درآمدی ڈیوٹی 11فیصد سے کم کرکے 7فیصد کی جائے۔

زونل چیئرمین اسلم موتن نے کہاکہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی جانب سے عائد کی گئی اینٹی ڈمپنگ کا جائزہ لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے مقامی انڈسٹریز کو فوائد پہنچانے کے لیے غیر ضروری طور پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کی اس کے باوجود مقامی انڈسٹریز برآمدی صنعت کی پیداواری طلب کے مطابق خام مال فراہم کرنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے برآمدی صنعتیں درآمدی خام مال پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں لیکن زائد ٹیکسوں اور اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کی وجہ سے مہنگے خام مال کے باعث صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگیاہے ۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ حکومت مقامی انڈسٹریز کو صنعتی طلب کے مطابق خام مال کی پیدواری صلاحیت حاصل کرنے تک اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی معطل کی جائے تاکہ برآمدی صنعتوں کو سستا خام مال میسر آسکے۔پائما کے وائس چیئرمین خالد اقبال گڈر نے کہا کہ یارن صنعتوں کا بنیادی خام مال ہے جو صرف صنعتوں میں ہی استعمال ہوتا ہے چاہے وہ کمرشل امپورٹرز درآمد کریں یا پھر صنعتی امپورٹرز۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ یارن کی درآمد پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو یکساں کی جائے اور برابری کی بنیا د پر کاروبار کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔