عدالت نے بیٹیوں کو مزید 30 یوم کیلئے بچھڑی ماں کے حوالے کردیا

کوئی بھی شکایت ہو گی تو گارڈیں جج معاملے کو دیکھے گا ،ْ چیف جسٹس ثاقب نثار

بدھ اپریل 20:36

عدالت نے بیٹیوں کو مزید 30 یوم کیلئے بچھڑی ماں کے حوالے کردیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) سپریم کورٹ میں یورپ کے ملک (لتھوینیا) سے تعلق رکھنے والی نومسلم خاتون کی بیٹیوں سے متعلق کیس میں عدالت نے ایک مرتبہ پھر بچوں کو آئندہ 30 روز کیلئے ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لتھوینیا کی خاتون کی بیٹیوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران غیر ملکی خاتون میمونہ، سابق شوہر جمشید صدیقی اور تینیوں بیٹیاں عدالت میں پیش ہوئیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کیوں نہ باپ کے خلاف مقدمہ درج کروائیں، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ معاملہ یہاں آ چکا ہے، اب یہ عدالت کی بچیاں ہیں۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی بھی شکایت ہو گی تو گارڈیں جج معاملے کو دیکھے گا۔

(جاری ہے)

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ باپ بچوں کو دبئی سے لیکر پاکستان آیا، گارڈین جج معاملے کو دیکھے اور گارڈیں جج بیٹیوں کی رہائش گاہ کا جائزہ لے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بچیاں پاکستان سے باہر نہیں جا سکتی اور بچیاں ایک سے چھین کر دوسرے کے حوالے نہیں کریں گے۔عدالت عظمیٰ نے بیٹیوں کو پرانی شرائط پر 30 دن کیلئے دوبارہ والدہ کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ والد پچھلے 15 یوم کی طرح تینوں بیٹیوں اور ان کی والدہ کی رہائش اور خرچ فراہم کرے گا جبکہ والد بیٹیوں کو روزانہ والدہ سے لے کر اسکول اور اسکول کے بعد والدہ کے پاس چھوڑنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 3 ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔