نت نئی ڈیجیٹل انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں کو اپنا نے کارجحان وقت کی اہم ضرورت ہے ،گورنر بلوچستا ن محمد خان اچکزئی

جمعرات اپریل 23:22

نت نئی ڈیجیٹل انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں کو اپنا نے کارجحان ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ نت نئی ڈیجیٹل انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مہارتوں کو اپنا نے کارجحان وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں ہمیں اپنے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ان کو مزید فعال بنانے کیلئے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھر پور استفادہ کرنا ہوگا کیونکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے پرانے طریقوں پر چلنے سے ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہوسکتے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز گورنر ہاؤس کوئٹہ میں یونیورسٹی آف تربت کے تیسرے سینٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پرسیکریٹری فنانس قمر مسعود ، پرنسپل سیکریٹری ٹو گورنر سجاد بھٹہ ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف تربت پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر سمیت سینٹ کے تمام ممبرز بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی توسط سے دنیا اتنی تیز رفتاری سے بدل رہی ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی کی ٹیکنالوجی اکیسویں صدی کے انسانو ں کی ضروریات کے حوالے سے ناقص ہوچکی ہے ۔

اس سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ وقت اور زمانے کے پل پل بدلتے تقاضوں کے ساتھ ہم قدم ہونے والے معاشرے ہی آنے والے مستقبل میں اپنا وجود بھر پور طریقے سے قائم و دائم رکھ سکتے ہیں ۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں استاد اپنے طلباء و طالبات کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ اساتذہ کرام طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کردار اور اخلاق سنوارنے پربھی توجہ مرکوز رکھیں ۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان کی کل آبادی کی ایک کثیر تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے مگر ان نوجوانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے اور ان کے علم و صلاحیت کو ملک و صوبے کی ترقی و خوشحالی کیلئے بروئے کار لانے کیلئے بھر پور اور ٹھوس اقدامات اٹھا نا بھی اشد ضروری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم نئی کو تعلیم کے ساتھ جدیدمہارتیں بھی سکھائیں تاکہ وہ عملی زندگی میں قدم رکھتے وقت دوسروں پر انحصار نہ کرسکیں ۔

انہوں نے کہا کہ روبوٹ ٹیکنالوجی اور توانائی کے متبادل ذرائع متعارف ہونے کے بعد ہمارے انجینئرز اور سائنسدانوں کو کتاب وکلاس تک محدود رہنے کی بجائے تقلید و تکرار کے روایتی خول سے باہر آکر معاشرے کو درپیش مشکلات کا نیا اور پائیدار حل پیش کریں اور معاشرے کو کنٹربیوٹ کریں۔ تربت یونیورسٹی کے سینٹ اجلاس کے شرکاء کی مختلف سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے بھی کئے گئے ۔