اسلامی نظریاتی کونسل نے پرامن پاکستان کو یقینی بنانے کے لیے اپنی سفارشات اہم سرکاری وغیر سرکاری اداروں کو ارسال کر دیں

ایوانِ صدر کی طرف سے اعلان شدہ اس قومی بیانیہ کو اٹھارہ سو سے زائد مختلف مسالک اور مدارس کے مختلف وفاقوں کی تائیدوحمایت حاصل ہے

جمعہ اپریل 19:38

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 اپریل2018ء) اسلامی نظریاتی کونسل نے پرامن پاکستان کو یقینی بنانے کے لیی12/ جنوری 2018ء کو ایوانِ صدر، اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں منظور ہونے والے قومی بیانیہ بعنوان "پیغامِ پاکستان" کے بارے میں اپنی سفارشات اہم سرکاری وغیر سرکاری اداروں کو ارسال کر دیں۔ایوانِ صدر کی طرف سے اعلان شدہ اس قومی بیانیہ کو اٹھارہ سو سے زائد مختلف مسالک اور مدارس کے مختلف وفاقوں کی تائیدوحمایت حاصل ہے۔

اس اہم متفقہ دستاویز کو اسلامی نظریاتی کونسل کے ۱۱۲ویں اجلاس (مارچ ۸۱۰۲ء ) میں سراہا گیا اور اس کو قانونی حیثیت دلوانے نیز مؤثر طریقے سے عام کرنے کے لیے جامع سفارشات مرتب کی گئیں۔ کونسل کی مندرجہ ذیل سفارشات سپیکر قومی اسمبلی، تمام صوبائی اسمبلیوں کے سپیرط صاحبان، چیئرمین سینیٹ، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، متعلقہ وفاقی وصوبائی وزراء، یونیورسٹیوں کے سربراہان اور وفاق ہائے مدارس کے سربراہان وناظمین کو ارسال کردی گئی ہیں:۔

(جاری ہے)

(الف) غام پاکستان کو ایوان زیریں (قومی اسمبلی) ایوان بالا (سینیٹ) اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں زیربحث لایا جائے اور اس کی روشنی میں ضرورت کے مطابق مناسب قانون سازی کی جائے۔(ب) مدارس اور یونیورسٹیوں کی تقریبات میں پیغام پاکستان کی تشہیر اور تحسین کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اس کو جامعات کے نصاب اور ماحول کا حصہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

(ج) کومت اسلام آباد، صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر شہروں میں "پیغام پاکستان" کے تعارف اور تشہیر کے لیے کل مسالک علماء و اساتذہ کے سیمینارز کا انعقاد کرے، تاکہ منبر و محراب کے ذریعے اس دستاویز کے مندرجات کی بہتر تفہیم کا انتظام ہو سکے۔(د) پیغام پاکستان کو نصاب کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے، علماء / اسکالرز، پروفیسرز حضرات اس انداز میں اس کی تدریس کریں اور مطالعہ کرائیں کہ طلباء کو پیغام پاکستان میں بیان کیے گئے مؤقف کی شرعی اور قانونی بنیادوں تک رسائی اور فہم حاصل ہو جائے۔

(ھ) پیغام پاکستان میں بیان کیے گئے اعلامیی/ بیانیہ کو عوامی مکالمہ کا موضوع بنایا جائے، اس مقصد کے حصول کے لیے میڈیا کو اس حوالے سے پروگرام منعقد کروانے کی ہدایت کی جائے۔(و) پیغام پاکستان کا بیانیہ، علماء کے بائیس نکات، علماء کرام کی طرف سے جاری کردہ ۰۱۰۲ء کا متفقہ فتویٰ اور پروفیسر خورشید احمد کی کتاب "پارلیمنٹ، دستور اور عدلیہ"کو یکجا کر کے ایک کتابچہ شائع کرنے کا اہتمام کیا جائی"۔