اسرائیلی فوج کے فلسطینیوں کو سرحد سے دور رہنے کیلئے دھمکی آمیز پمفلٹ

حماس کے منتظمین کی ہدایات پرعمل کیں تو جان خطرے میں ہوگی، ہر طرح کی صورت حال کیلئے تیار ہیں ، غزہ کے رہائشی باڑ سے دور رہیں اور اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں ، حماس جیسی دہشت گرد تنظیم کے احکامات پر عمل نہ کریں وہ آپ کی جانکیلئے خطرناک ہے،اسرائیلی فوج کی تنبیہ

ہفتہ اپریل 16:30

تل ابیب(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو سرحدی باڑ سے دور رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے ائرکرافٹ سے پمفلٹ گرائے ہیںجس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انھوں نے حماس کے منتظمین کی ہدایات پرعمل کیں تو ان کی جان خطرے میں ہوگی۔اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ ہر طرح کی صورت حال کے لیے تیار ہیں اور غزہ کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ باڑ سے دور رہیں اور اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں اور حماس جیسے دہشت گرد تنظیم کے احکامات پر عمل نہ کریں وہ آپ کی جان کے لیے خطرناک ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو جان کے خطرے کی دھمکی دیتے ہوئے پمفلٹ ایک ایسے وقت میں گرائے گئے ہیں جب وہ 30 مارچ سے سرحد پر بڑے پیمانے پر احتجاج کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

فلسطینیوں کی جانب سے جاری اس احتجاج کے دوران گزشتہ تین ہفتوں میں سرحدی باڑ کی دوسری جانب سے اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 28 فلسطینیشہید اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کی سرحد کا دفاع کررہے ہیں، فوجیوں سمیت اسنائپرز صرف فساد پھیلانے والوں کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ حماس حملوں کو چھپانے کے لیے عوامی احتجاج کو استعمال کررہی ہے۔اسرائیلی کو امریکا سمیت دنیا بھر سے فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے فائرنگ کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اپنی فوج کو غیرمسلح مظاہرین پر مہلک کارروائیوں کی اجازت دی ہے۔

امریکی صدر کی مشرق وسطی کی ٹیم کے رکن اور وائٹ ہاوس کے نمائندے جیسن گرین بلیٹ نے سوشل میڈیا میں اپنے پیغام میں کہا کہ فلسطینیوں کو غزہ میں بدترین صورت حال کے خلاف احتجاج کا حق حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ منتظمین کو پیغام پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ فائربم اور دیگر اشیا کے ذریعے خطرناک احتجاج کیا جائے اور حفاظتی طور پر خود کو سرحد سے دور رکھیں کیونکہ اس احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتیں اور زخمیوں کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

یاد رہے کہ 30 مارچ کو غزہ کی پٹی میں سرحدی باڑ پر احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 15 فلسطینی شہید اور 1400 زخمی ہوگئے تھے جو 2014 کے بعد ایک روز میں پیش آنے والے بدترین واقعات ہیں۔خیال رہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی قبضے اور مقامی افراد کو بے دخل کرنے کے 70 برس پورے ہونے کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور 15 مئی کو وسیع پیمانے پر سرحدی باڑ کے ساتھ احتجاج کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔اس واقعے کے بعد ہونے والے مظاہروں پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے مزید کئی افراد شہید ہوئے جس کے نتیجے میں ایک ہفتے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 28 ہوگئی تھی۔