شاعر مشرق، مفکر اسلام علامہ محمد اقبال کی 80ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

ہفتہ اپریل 17:52

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) شاعر مشرق،، مفکر اسلام علامہ محمد اقبال کی 80ویں برسی ہفتہ کو ملک بھرمیں عقیدت و احترام سے منائی گئی, اس موقع پر ان کی بلندی درجات کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں، اہم شخصیات کی جانب سے مزار اقبال پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں، صدر ، وزیر اعظم سمیت اہم شخصیات کے پیغامات نشر و شائع و ٹیلی کاسٹ کئے گئے، ذرائع ابلاغ پر اقبال کی شاعری اور فلسفہ پر خصوصی پروگرامات نشر و شائع و ٹیلی کاسٹ کئے گئے ۔

علامہ اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے،انہوں نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔شعر و شاعری کا شوق بھی آپ کویہاں سے ہی پیدا ہوا اور اس شوق کو فروغ دینے میں آپ کے ابتدائی استاد مولوی میر حسن کا بڑا اہم کردار تھا۔

(جاری ہے)

انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن اور ماسٹر کیا۔

جس کے بعد 1905 میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے اور قانون کی ڈگری حاصل کی، یہاں سے آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ابتداء میں آپ نے ماسٹر کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعر و شاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا جبکہ 1922 میں حکومت کی طرف سے سًر کا خطاب ملا۔

آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقاعدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔ 1930 میں آپ کا الہٰ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے، اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔آپ کی تعلیمات اور قائد اعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔۔پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938 کو علامہ انتقال کر گئے تھے تاہم ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔

جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔۔شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی،یہی وجہ ہے کہ کلامِ اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانانِ عالم اسے بڑی عقیدت کے ساتھ زیرِ مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا، ان کی کئی کتابوں کے انگریزی، جرمن،، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور دوسری زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔