ڈیرہ بگٹی کے نواحی علاقے بمبور کے پہاڑیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرپسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ کرکے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا

ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان بھر میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ھے اب شرپسندوں اپنے آخری ٹھکانے سے بھی محروم ہوگئے ہیں،صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی

ہفتہ اپریل 22:00

ڈیرہ بگٹی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) ڈیرہ بگٹی کے نواحی علاقے بمبور کے پہاڑیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرپسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ کرکے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا جبکہ اس موقع پر اہم فراری کمانڈر بوجلا بگٹی نے اپنے 20 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال کر خود کو حکام کے حوالے کردیا سیکورٹی حکام کے مطابق گزشتہ گیارہ دنوں سے اب تک سیکورٹی فورسز نے شرپسندوں کے خلاف کامیاب کاروائی کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز سے مقابلہ کرنے والے 5 شرپسندوں کو ٹھکانے لگا دیا اور 29 مشتبہ سہولتکاروں کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی ھے جبکہ شرپسندوں کے ٹھکانوں سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا ھے اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کے علاوہ ایف سی ،حساس اداروں کے آفیسران ، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی جاوید نبی کھوسہ اور ڈسٹرکٹ چئیرمین ڈیرہ بگٹی میر غلام نبی بگٹی بھی موجود تھے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ہتھیار ڈالنے والے فراریوں سے ہتھیار لیتے ہوئے انہیں گلے سے لگا کر خوش آمدید کہا اس موقع پر ہتھیار ڈالنے والے افراد نے اپنی پچھلی زندگی پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو یقین دلایا کہ آئندہ جب کبھی انہوں نے ہتھیار اٹھائے تو وہ پاکستان کے دفاع کے لئے اٹھائیں گے کیونکہ اس سے بیشتر انہیں ملک دشمنوں نے ورغلا کر ملک دشمنی کے ایجنڈے پر ڈال دیا تھا اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان بھر میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ھے اب شرپسندوں اپنے آخری ٹھکانے سے بھی محروم ہوگئے ہیں اب اس علاقے میں فراریوں کی تعداد گنا چنہ ہی رہ گیا ھے صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز نے شاندار حکمت عملی کے زریعے بلوچستان میں ملک دشمن عناصر کے مزموم مقاصد کو ناکام بناکر امن کی فضا بحال کر دی ھے حکومت کے نرم روئیے کے باعث سینکڑوں لوگ قومی دھارے میں واپس آکر پرامن شہری بن گئے ہیں اب انہیں اس حقیقت کا ادراک ہوگیا ھے کہ براہمداغ بگٹی حیربیار مری اور زامران مری جن کے اپنے بچے یورپ کے انٹرنیشنل اسکولز میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ وہ اور ان کے بچے پہاڑوں پر دربدر ہیں لہزا قومی دھارے میں شمولیت کے بعد اب ان کے بچے بھی تعلیم حاصل کررھے ہیں اور حکومت نے واپس آنے والے افراد کی نہ صرف مالی مدد کی ھے بلکہ انہیں لا تعداد سرکاری ملازمتیں بھی فراہم کی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اب لوگوں میں شعور آگیا ھے وہ کسی کے بہکاوے میں نہیں آئینگے اور لوگوں میں شعور کی آمد ہی ملک دشمن عناصر کے بد ترین شکست کی علامت ھے یہ ریاست بہت ہی خوبصورت ریاست ھے کیونکہ جنہوں نے ملک دشمنی میں بے گناہوں کا خون تک بہایا مگر توبہ تائب ہونے کے بعد ریاست نے پھر گلے لگا کر انہیں معاف کردیا جبکہ اس سفر میں سیکورٹی فورسز کی بیش بہا قربانیاں ہیں جس پر قوم و ملک ان کے شکرگزار اور مقروض ہیں۔