سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے اہل خانہ پر عائد سالانہ فیس کے نفاذ کے بعد بڑی تعداد میں تارکین کی واپسی کا سلسلہ جاری

اتوار اپریل 11:30

جدہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے اہل خانہ پر عائد سالانہ فیس کے نفاذ کے بعد بڑی تعداد میں تارکین کی وطن روانگی کا سلسلہ جاری ہے، حراج میں استعمال شدہ سامان کی خریدو فروخت میں غیر معمولی کمی واقع ہو ئی جبکہ تارکین کی جانب سے بعض ویب سائٹس پر مفت گھریلو سامان حاصل کر یں کے اشتہار دیے جارہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے اہل خانہ پر عائد سالانہ فیس کے نفاذ کے بعد بڑی تعداد میں تارکین کی وطن روانگی کا سلسلہ جاری ہے، انٹر نیٹ پر خرید و فروخت کی مخصوص ویب سائٹس پر مفت سامان کی کیٹگری کا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس میں وہ تارکین جو مملکت سے مستقل طور پر نقل مکانی کر رہے ہیں، اپنا سامان انتہائی کم داموں یا مفت دینے کو تیار ہیں۔

(جاری ہے)

لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ گھریلو فرنیچر حراج لے کر گئے جہاں دکانداروں نے سامان خریدنے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے انہیں فرنیچر حراج میں ہی پھینک کر آنا پڑا۔ ڈھائی ٹن کا پرانا ایئر کنڈیشن جو گزشتہ برس تک 400 ریال میں فروخت کیاجاتا تھا ان دنوں بمشکل 100 ریال میں فروخت ہورہا ہے۔ پرانے ٹی وی دکاندارنہیں خرید رہے جس کی وجہ سے لوگ انھیں کباڑیوں کو 5 ریال میں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

پرانا سامان خریدنے والے ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ بزنس 70 فیصد تک کم ہوچکا ہے۔اگر دکان مالکان نے کرائے کم نہ کیے تو بہت سی دکانیں بند ہو جائیں گی۔پرانے سامان کی تجارت سے منسلک ایک اور تاجر کا کہنا تھا کہ حالات سے مجبور ہو کر اسے 2 دکانیں بند کرنا پڑیں۔ اگربلڈنگ کے مالکان نے کرائے میں کمی نہ کی تو وہ مزید دکانیں بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ جدہ کے حراج سواریخ میں پرانے سامان کے خریدار نہیں آرہے جس کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد سامان کو مفت دینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ کرائے کی پک اپ میں سامان لوڈ کروانے کے بعد فروخت کرنے کیلئے حراج لے کر جاتے ہیں مگر وہاں کوئی پوچھتا تک نہیں اس لئے بحالت مجبوری سامان وہیں پھنکنا پڑتا ہے۔