سپریم کورٹ کا پیدائشی طور پر لاعلاج بیماری میں مبتلا بچوں کے علاج کیلئے 10 روز میں مشین منگوانے کا حکم

اتوار اپریل 16:40

لاہور۔22 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے پیدائشی طور پر لاعلاج بیماری میں مبتلا بچوں کے علاج کے لیے 10 روز میں بیرون ملک سے مشین منگوانے کا حکم دے دیا. چیف جسٹس پاکستان نے قرار دیا کہ کیا انتظامیہ کا کام نہیں کہ علاج کیلئے سہولیات فراہم کی جائیں..چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے لا علاج بچوں کے از خود نوٹس کی سماعت کی۔ دوران سماعت دو بچوں کے والد نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ مجھے اور میرے بچوں کو مختلف ہسپتالوں میں دھکے ملے، علاج کیلئے مشین ہی موجود نہیں ہے جس سے علاج ممکن ہی.

۔

(جاری ہے)

خواجہ سلمان رفیق نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ حکومتی پیسے سے مشین منگوائی جائے گی اور اسے چلانے کیلئے درکار تمام سہولیات بھی فراہم کر دی جائیں گی. پروفیسر ایاز نے عدالت کو بتایا کہ دنیا میں اس بیماری کا علاج نہیں ہے میڈیکل بورڈ نے جو ادویات تجویز کیں انہیں لینے کوئی نہیں آیا. بچوں کو علاج کیلئے سروسز ہسپتال بھجوایا جائے گا تو انکی اشک شوئی کی جائے گی،جس پر چیف جسٹس نے ڈاکٹر ایاز کو باور کروایا کہ اشک شوئی نہیں کرنی انکا بہترین علاج کرنا ہی.

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ہم نے بچوں کے علاج کیلئے تمام بندوبست کر دیا ہے، اب دوائی بھی ملے گی مشین بھی منگوا لی جائے گی،بچوں کے والد نے عدالت کو بتایا کہ جب تک مشین نہیں آتی علاج کیلئے کوئی اور بندوبست کر دیا جائی. چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ تم بچوں کو استعمال کر کے ملک سے باہر جانا چاہتے ہو، عدالت ایسا نہیں ہونے دے گی. بچوں کا علاج پاکستان میں ہی ہو گا. اگر تم نے بچوں کے علاج میں کوتاہی کی تو عدالت ایکشن لے گی. عدالت نے فوری طور پر مشین پاکستان منگوانے کا حکم دے دیا۔