بھارت میں بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت کا قانون منظور

اتوار اپریل 23:20

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل2018ء) آصفہ بانو کو انصاف دلانے کی تحریک سے مودی سرکار جھکنے پر مجبور ہو گئی، بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو موت کی سزا دلانے کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں اجتماعی زیادتی کے بعد قتل ہونے والی آصفہ بانو کو انصاف دلانے کی تحریک نے مودی سرکار کو بھی جھکنے پر مجبور کر دیا۔

درندگی کی داستان عالمی میڈیا پر سرخیوں میں بیان ہونے لگی تو سالانہ ہزاروں زیادتی کے باوجود گنگے بہرے بھارتی حکمرانوں کو بھی قانون سازی کا خیال آ ہی گیا۔حکومت نے زیادتی کے مقدمات اور تحقیقات کی تیز ترین سماعت کے لیے متعدد اقدامات کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اب بھارت میں جنسی زیادتی کی کم از کم سزا عمر قید کردی گئی ہے جو اس سے پہلے 7 سے 10 سال قید تھی۔

(جاری ہے)

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کابینہ نیایک آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت 12 برس سے کم عمر بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو موت کی سزا دی جائے گی۔۔بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ 2016 میں بھارت میں زیادتی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور 2015 کے مقابلے میں واقعات 82 فیصد بڑھے۔