حریت فورم کی مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاری ، ان پر کالے قانون کے نفاذ کی مذمت

غیرجمہوری حربوںسے مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں کو مبنی برحق موقف سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا ہے، ترجمان فورم

پیر اپریل 11:30

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں میرواعظ عمرفاروق کی زیر قیادت حریت فورم نے متعدد مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاری اور ان کے خلاف بدنام زمانہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے اطلاق کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتقامی سیاست قرار دیا ہے ۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت فورم کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مزاحمتی رہنما آسیہ اندرابی کو گرفتار کرکے جیل میں نظربند کرنااور مزاحمتی کارکنوں سراج الدین میر اور عبد الرشید مغلو کی گرفتاری کے بعد ان پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنا کٹھ پتلی حکمرانوں کی اس جارحانہ پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ مختلف بہانوں سے مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ ایک طرف مزاحمتی قیادت کو گھروں اور تھانوں میں نظر بند کیا جارہا ہے اور ان کی پُر امن سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جارہی ہے اور دوسری طرف حریت پسند کارکنوں کیخلاف کریک ڈاون کرکے ان کو ظلم وبربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

(جاری ہے)

انہو ں نے ان کارروائیوںکو کٹھ پتلی حکمرانوں کے استعماری حربے قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ ترجمان نے کہاکہ اس طرح کے غیرجمہوری حربوںسے مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوںکے حوصلوں کو نہ پست کیا جاسکتا ہے اور نہ انہیں اپنے مبنی برحق موقف سے دستبردار کیا جاسکتا ہے۔