قومی و صوبائی اسمبلیاں قبل از وقت تحلیل، الیکشن میں تاخیر ہونے کا امکان

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر اپریل 12:57

قومی و صوبائی اسمبلیاں قبل از وقت تحلیل، الیکشن میں تاخیر ہونے کا امکان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 اپریل 2018ء) : قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی اسمبلیاں تحلیل ہونے کی تیاریاں شروع ہر گئی ہیں۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیاں مدت پوری کرنے سے قبل تحلیل ہو جائیں گی، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے حکومت کو باقاعدہ تجویز دے دی ہے۔ فیصلے کا مقصد انتخابات کو ایک ماہ کے لیے مؤخر کرن اہے ۔

تجویز کو مانا گیا تو انتخابات جولائی کی بجائے 20 اگست کے بعد ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق مختلف حلقوں کی جانب سے الیکشن کی تیاری کے لیے وقت مانگنے کی درخواستیں کی جا رہی ہیں۔ جب فوری طور پر نئی مردم شماری کے تحت حلقہ بندی کرنے کی ہدایت کی گئی تو اس وقت بھی الیکشن کمیشن نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ حلقہ بندیوں کے طقیل طریقہ کار کو مطلوبہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وقت درکار ہو گا۔

(جاری ہے)

جبکہ متعدد علاقوں میں حلقوں میں اعتراضات کے بعد معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا اور حکم امتناعی بھی جاری کیے جا سکتے ہیں۔ آئین کے مطابق اسمبلی کی مدت پوری ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن 60 دنوں میں الیکشن کروانے کی پابند ہے تاہم اگر اسمبلیاں تحلیل کی جاتی ہیں تو اس صورت میں انتخابات کروانے کے لیے 90 دن درکار ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جولائی میں انتہائی گرمی کے باعث ٹرن آؤٹ انتہائی کم ہو سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ تجویز بھی دی کہ انتخابات 20 سے 24 اگست کے درمیان کروائے جائیں ۔ حکومتی حلقوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ الیکشن کمیشن کی اس تجویز کو قبول کیا جائے گا۔