پیرس حملے ،ْمرکزی ملزم صالح عبدالسلام کو 20 سال قید کی سزا

پیر اپریل 16:59

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) بیلجیئم کی ایک عدالت نے 2015 میں ہونے والے پیرس حملوں کے ماسٹر مائند اور اہم ترین سہولت کار صالح عبدالسلام کو 20 سال قید کی سزا سنا دی۔خیال رہے کہ 13 نومبر 2015 کو پیرس میں کنسرٹ ہال اور ریسٹورنٹس سمیت 6 مقامات پر حملے کیے گئے تھے جن کے نتیجے میں 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان 4 سے 5 گھنٹے تک جاری رہنے والے مقابلے کے بعد تمام حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

بعدازاں 19 مارچ 2016 کو بیلجیئم پولیس نے مقابلے کے بعد پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور اہم ترین سہولت کار صالح عبدالسلام سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کیا تھا، اس مقابلے کے دوران 4 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔بیلجیئم نژاد فرانسیسی صالح عبدالسلام نے گرفتاری کے بعد مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ 13 نومبر کو اسپورٹس اسٹیڈیم میں خود کو دھماکے سے اڑانے کا منصوبہ رکھتا تھا تاہم آخری وقت میں اس نے اپنا ارادہ تبدیل کرلیا۔

(جاری ہے)

ملزم نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے پیرس حملوں کے لیے لاجسٹک مدد فراہم کی تھی۔عبدالسلام کے ساتھی ملزم صوفین ایاری کو بھی 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔واضح رہے کہ ملزم عبدالسلام اس وقت فرانس کی ایک جیل میں قید ہے اور اسے پیرس حملوں پر وہاں بھی ایک مقدمے کا سامنا ہے۔