سپریم کورٹ میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت

نادرا کے تیار کردہ سافٹ ویئرکا جائزہ لینے کیلئے تشکیل دی گئی 'ٹاسک فورس کی جانب سے مزید مہلت کی استدعا مسترد ، ٹاسک فورس بہرصورت عدالت کو 15دن میں رپورٹ پیش کرے،سپریم کورٹ

پیر اپریل 23:27

سپریم کورٹ میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق ازخود نوٹس کیس ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں نادرا کی جانب سے تیار کردہ سافٹ ویئرکا جائزہ لینے کے حوالے سے تشکیل دی گئی 'ٹاسک فورس کی جانب سے مزید مہلت کی استدعا مسترد کردی ہے اورہدایت کی ہے کہ ٹاسک فورس بہرصورت عدالت کو 15دن میں رپورٹ پیش کرے ، چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ووٹ کی سکریسی اور پیکنگ کے ذریعے محفوظ ووٹ کا سسٹم بننا چاہیے ہم یہ مقدمہ ملک کے سن رہے ہیں، ماہرین کی رپورٹ کی روشنی میں عدالت دیکھے گی کہ تیارکر دہ سافٹ ویئر سیکیورٹی پروف ہے یا نہیں، پیرکو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ، اس موقع پرالیکشن کمیشن کے سافٹ وئیر انجینئرمنشادستی نے پیش ہوکرعدالت کو بتایا کہ ہمیں ایپلیکیشن تک رسائی حاصل نہیں ہے، جبکہ تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی کاکہنا تھا کہ 5 ٹریلین پیسہ روزانہ ٹرانسفر ہوتا ہے، جس میں پیکنگ نہیں ہوتی، چیف جسٹس نے ان سے کہا ہم ایک فیصد بھی رسک نہیں لیں گے،اگرحکومت نادرا کی رقم ادا نہیں کر رہی، توآیندہ عام انتخابات میں کام کیسے چلایا جائے گا، ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایاکہ ٹاسک فورس کی پہلی ملاقات 20 اپریل کو ہوئی ہے، جس میں اس معاملے کاباریکی سے جائزہ لیا گیا ہے ٹاسک فورس کو دس روز میں کام مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا ووٹ کاحق استعمال کرنے کی سہولت کا پروگرام فول پروف ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ پروگرام ہیک ہو جائے ہم تھرڈ پارٹی کے ذریعے اس لئے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ الیکشن پرکوئی انگلی نہ اٹھاسکے ،بادی النظر میں محسوس ہورہا کہ شاید معاملے پر قانون سازی کرنا پڑے گی جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ اپنے ہی شہریوں کو ووٹ کی سہولت دینے کے لئے قانون سازی کی ضرورت نہیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اس قانونی نکتے پر عدالت فیصلہ کرے گی کیونکہ کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جہاں ہم اپنامفاد بھول جاتے ہیں چیف جسٹس نے عارف علوی کومخاطب کرتے ہوئے کیاکہ آپ ایک سیاسی رہنما بن کر سوچیں کہ کیا یہ سافٹ ویئر قابل عمل اورمخفوظ ہے الیکشن کمیشن نے ڈاکٹر منشاکی خدمات حاصل کی ہیںوہ اپناکام کرکے دیں گے تو قوم ٹاسک فورس کی شکرگزارہوگی عارف علوی نے کہاکہ انہوں نے مائیکروسافٹ سے رابطہ کیاہے اورمائیکروسافٹ 10روزمیں اپنی تجاویز دے گی، سماعت کے دوران ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر منشاد ستی عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس اعجازالاحسن نے ان سے استفسار کیاکہ کیا سسٹم کو ہیک ہونے سے متعلق رپورٹ تیارکرلی گئی ہے تو ڈاکٹر منشا دستی نے کہاکہ وہ مفت اپنی خدمات مفت فراہم کریں گے ،میری ٹیم میں نمایاں ڈاکٹرز اور ماہرین شامل ہیں، سسٹم کا جائزہ لے کر عدالت کو رپورٹ پیش کر دیں گے، چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ عام انتخابات قریب ہیں اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ یہ سسٹم تارکین وطن کی سہولت کے لیے استعمال ہو سکے، بعدازاں عدالت نے پندرہ روز میں ٹاسک فورس سے جائزہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی ۔